لاہور کے تھے کوچے اوراق مصور تھے
ہم میں سے اکثر لوگ پرانے مکانوں اور منزلوں کے دل دادہ ہوتے ہیں۔ کھلے احاطے، پرکار دروازے، کٹاؤ دار غرفے، اونچی فصیلیں، چو طرفہ کرسیاں۔ یہ سب ٹھیک لیکن بعضے ہم چیزیں اور جگہوں کو ٹکڑوں میں دیکھنے کی بجائے ”کُل“ کے تناسب میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب ہمیشہ شعور کی سطح پر نہیں ہوتا۔ جمالیات کا اصل الاصول بے ترتیبی میں ترتیب کی تلاش ہے۔ بے مثل کہانی کار نیّر مسعود نے اپنے پہلے مجموعے ”سیمیا“ کے آغاز میں حضرت جعفر صادق علیہ السلام کا ایک طویل قول نقل کیا ہے :
جعفر صادق:
اے جابر! آیا تم دیوار کے اوپر یہ نقش دیکھ رہے ہو اور مشاہدہ کر رہے ہو کہ یہ ایک منظم ہندسی شکل ہے؟ تم اس نقش کے مشاہدے سے لذت حاصل کر رہے ہو لیکن اس لیے نہیں کہ تم علمِ ہندسہ سے واقف ہو اور جانتے ہو کہ یہ ہندسی شکلوں میں سے کون سی شکل ہے؟ بل کہ اس وجہ سے کہ تم اسے منظم پا ر ہے ہو کہ یہ ایک مکمل نقش ہے، کیوں کہ اس میں نظم و ترتیب موجود ہے۔ جو لوگ علم ہندسہ سے کوئی واقفیت نہیں رکھتے وہ بھی اس نقش کو دیکھ کے محظوظ ہوتے ہیں کیونکہ اسے منظم اور کامل پاتے ہیں، بلکہ بچے بھی اسے دیکھ کے خوش ہوتے ہیں۔
اگر یہ نقش، جسے میں اور تم دونوں دیکھ رہے ہیں، غیر منظم ہوتا اور اس کے خطوط آپس میں مخلوط اور ہر طرف سے ملے ہوتے کہ نہ ان سے کوئی مکمل ہندسی شکل بنتی نہ کسی ایسی چیز کی تصویر جسے ہم پہچانتے ہیں تو کیا اس صورت میں بھی ہم اسی طرح اس کے مشاہدے سے محفوظ ہوتے؟
جابر ابن حیان: نہیں!
[بحث امام جعفر صادق و جابر ابن حیان : مترجم، محمد باقر جوراسی]میں نے قارئین کو یہ طویل اقتباس پڑھنے کی زحمت اس لیے دی تاکہ اندازہ ہو سکے، جمالیات سے حظ اندوزی ہونے کا اصول عام سے عام انسان میں بھی موجود ہوتا ہے۔ کچھ سال پہلے میں اپنے عم زاد کے ہم راہ گاؤں کی ایک مسجد میں گیا۔ محراب سفید سِلوں سے آراستہ پیراستہ تھا۔ دائیں بائیں بیل بوٹوں اور رنگوں کے تناسب سے مجموعی فضا کو جاذب نظر بنایا گیا تھا۔ قرآنی آیات اور احادیث کے علاوہ درمیان میں ایک اردو شعر بھی مرقوم تھا۔ عم زاد نے شعر کو بہ آواز بلند پڑھا:
حق تعالی بھی کریم اور محمد بھی کریم
دو کریموں میں گنہ گار کی بن آئی ہے
سبحان اللہ۔ رحمت کی امید بل کہ یقین کے سوا کیا چاہیے۔
میں نے اسے بتایا، یہ شعر سعدی سے منسوب مشہور شعر کا اردو ترجمہ ہے :
یا رب تو کریمی و رَسُولِ تو کریم
صَد شُکر کہ ہستَم مِیاںِ دو کریم
علم زاد نے، جو فارسی کی الف ب سے واقف نہ تھا، کہا : اردو ترجمے میں لفظ ”کریموں“ سے عجیب کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ میں نے تفصیل سے پوچھنا چاہا تو اسے کریموں کے لفظ میں تنافر کا احساس تھا۔ ظاہر ہے بارہ سال کے بچے کے الفاظ یہ نہ تھے۔ مراد البتہ یہی تھی۔ پاک ہستیوں کا ذکر لفظ کو جمالیاتی اعتبار سے مزید سڈول بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔ ( کنزِ نبی کے گوہر یکتا حسین ہیں، والا قصہ سب جانتے ہیں)
میں نے اس کی طرف دیکھا اور خوشی کا اظہار کیا۔ لفظ کے برتنے کا یہ احساس جو بارہ سالہ بچے کے ذہن میں پیدا ہوا، جمالیات اور علمہ البیان کا بیّن ثبوت ہے۔ بہت سالوں پہلے بی اے کے دنوں میں مثنوی سحر البیان کا یہ شعر بارِ اول پڑھا تھا :
عمارات گچ کی وہاں بیشتر
کہ گزرے صفائی سے جس پر نظر
ان دنوں چوں کہ کل متاع نور اللغات تھی، فوراً کھولی۔ گچ کا لفظ تلاش کیا۔ یافتم : 1۔ سفیدی اور دریا کی ریت سے تیار کیا ہوا چونا جو پلاسٹر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 2۔ کیچڑ میں چلنے کی آواز ؛ وہ آواز جو دھار والے آلے کے ملائم گوشت میں گُھسنے سے ہوتی ہے۔ یہاں پہلا معنی مراد ہے۔ اگرچہ دوسرے معنی کا نصف اول بھی بکار آ رہا ہے۔ میر حسن کو عمارتوں کی تعمیر سے خاص دل چسپی تھی۔ سحر البیان تو خیر شاہ کار ٹھہری، انھوں نے مختصر مثنویوں میں بھی کئی ایسی چیزیں جمع کی ہیں، جس سے لکھنؤ کی عمارتوں اور عام مکانوں کی جغرافیائی حیثیت کو متعین کیا جا سکتا ہے۔ ایک مثنوی ایسے مکان کی مزمت میں بھی ہے اور نہایت دل چسپ۔ دو شعر سن لیجیے:
پانچ پٹّی کا کہنہ سا چھپّر
ساتھ سائے کے دھوپ آٹھ پہر
نو کا یا دس کڑی کا اک دالان
تس پہ اس ٹوٹی جھونپڑی کی شان
بہ ہر صورت اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے، پرانی عمارتوں کی تعمیر کے سلسلے میں ہمارے معلومات عمومی اور سرسری باتوں سے آگے کے نہیں اور سائنسی نوعیت کی جزیات تو سرے سے غائب ہیں۔ پچھلے دنوں پرانی کتابوں کے بازار سے ایک بوسیدہ نسخہ خریدنے کا اتفاق ہوا۔ کتاب کا نام ہے
Punjab P.W.D Specification
Buildings roads and sanitary works
اس کتاب کو سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس نے لاہور سے 1922 میں چھاپا تھا۔ 1922 کا پہلا نسخہ، آب دیدہ لیکن مکمل۔ میں نے خریدنے سے پہلے اس کے محتویات پر نظر ڈالی۔ کوئی چیز میری دل چسپی کی نہ تھی۔ خالصتا تکنیکی نوعیت کی چیزیں، چونا، گارا گلیاں، فرش، اینٹیں، نقشے، فرش بچھانے کے طریقے، دیواریں اٹھانے کے ڈھنگ۔ عمارتوں کے نام سے سے دلچسپی کا تسامح ہوا لیکن ایسی تاریخی عمارتوں جیسی کوئی چیز یکسر موجود نہیں۔ میں کتاب کو رکھ کر آگے بڑھنے والا تھا۔ اچانک میری نظر کتاب کے ہر ہر صفحے پر موجود سرخ، سبز اور نیلی روشنائی سے لیے گئے باریک خط کے نوٹس پر پڑی۔ کسی نے پوری کتاب کو بڑی عرق ریزی سے پڑھا تھا۔ نقشوں پر اندازوں کی پیمائشیں لگائی تھیں۔ میں نے سرورق سے اگلا صفحہ دیکھا۔ انگریزی میں لکھا تھا:
Balwant Singh
SDO
Pakpattan main division
Montgomery
یہ سب سرخ رنگ کی روشنائی سے لکھا ہوا ہے۔ روشنائی امتداد زمانہ سے پھیکی پڑ گئی ہے۔ لکھنے والے کے خط میں ہنرمندی کا عکس موجود ہے۔ اس تحریر کو کتاب پر تین مختلف جگہوں پر لکھا گیا ہے۔ درمیان میں ایک سٹیمپ بھی لگائی گئی ہے۔ سٹیمپ کے حروف بھی مٹے مٹے اور سرخ رنگ کے ہیں۔ غور سے پڑھنے پر کھلتا ہے:
SDO Islam Subdivision
یہاں اسلام کے کیا معنی ہیں، بالکل سمجھ نہیں آئے۔ کتاب کے آخری صفحے کی پشت پر کسی دوسرے قلم کی سرخ روشنائی سے انگریزی میں Junior Raleigh No 912070 لکھا ہے۔ تاریخ درج ہے۔
7/7/1933
میرا جی چاہا کتاب خرید کر بلونت سنگھ کی روح کو شانتی دوں۔ شوق سے اسے گھر لایا اور الٹ پلٹ کر دیکھا۔ دو سو صفحے کی کتاب کے آخر میں سو اضافی صفحے لگائے گئے ہیں۔ ان پر ہندوستان بھر کے تعمیراتی اداروں اور دکانوں کے مصوَر اشتہارات ہیں۔ نہایت دل چسپ اور نئے معلومات سے بھرے پُرے۔ البتہ یہ قصہ کسی اور دن سے سہی۔ میں سمجھ گیا، کتاب میرے مذاق کی نہیں۔ صرف کتاب خانے کی زینت ہو گی۔ دو تین دن پہلے بغیر کسی ظاہری مہیّج کے کتاب نکالی اور پہلا باب شروع کیا۔ پہلا باب لاہور کے موسم میں عمارتوں کو چونا اور ڈسٹمپر کرنے کے بارے میں ہے۔ مجھے شوق فضول پر ہنسی آئی، یعنی نوبت بہ این جا رسید۔ بہر صورت میں نے بے خیالی میں پڑھنا شروع کیا۔ بیس تیس صفحے پڑھے تو آنکھیں کھل گئیں۔ اس لیے نہیں کہ ان صفحات میں تاریخ کا پوشیدہ خزانہ تھا۔ اس واسطے کہ سوا سو برس پہلے انگریزوں کی ہر عام چیز کو سائنسی انداز میں سمجھنے کے شوق نے چونکایا۔ یعنی لاہور اور لندن میں چونا کرنا اگر مختلف ہے تو اس سائنس کو سمجھا جائے اور اس پر مصوَر کتاب لکھی جائے، واہ۔ چونا کرتے ہوئے برش کیسے استعمال ہوں، چونا کب کیا جائے، ڈسٹمپر کب۔ چھت کی کیا صورت ہو، فرش کی کون مہورت ہو۔ نقشے کیسے سیدھے ہو، مزدور کس نوعیت کے ہوں۔ گوند میں چاول کب استعمال ہوں، دال کب، گچ کب بنے، لئی کب۔
مجھے لگا، یہ عام لیکن خاص بات قارئین کے ساتھ ساجھی کروں۔ دوستو فرنگی ظالم و سفاک سہی لیکن کیا کیا جائے کہ علم کی
خوجینیں انھی کے شانوں سے لٹکی ہیں۔
باب کے چند صفحات کا خلاصہ ملاحظہ ہو، تصویریں اس پر مستزاد ہیں۔
”سفیدی کے ہر کوٹ میں برش کے چار اسٹروک شامل ہوں گے : ایک نیچے کی طرف، ایک اوپر کی طرف، ایک افقی انداز میں دائیں سے بائیں اور ایک بائیں سے دائیں طرف لگایا جائے گا۔
سفیدی تازہ بجھے ہوئے چونے سے تیار کی جائے گی۔ چونے کو ایک ناند میں ڈال کر اس میں پانی شامل کیا جائے گا، یہاں تک کہ اچھی طرح ہلانے پر آمیزہ رقیق کریم جیسی گاڑھا پن اختیار کر لے۔ اس کے بعد آمیزے کو صاف ہندوستانی سوتی کپڑے سے چھانا جائے گا۔ کپڑے کے لیے ضروری ہے اسے پہلی بار استعمال کیا جائے۔
چونے کے ہر مکعب فٹ کے لیے اس آمیزے میں دو چھٹانک (چار اونس) گوند اور چھ چھٹانک (بارہ اونس) چاول شامل کیے جائیں گے۔ گوند اور چاول کو پہلے پانی میں ابال کر تیار کیا جائے گا۔ اس طرح تیار شدہ آمیزہ برش کی مدد سے مقررہ تعداد میں تہوں یا کوٹ کی صورت میں لگایا جائے گا۔
سفیدی کی ہر تہہ کو اگلی تہہ لگانے سے پہلے اچھی طرح خشک ہونے دیا جائے گا۔ اگلی تہہ لگانے سے پہلے متعلقہ نگران ماتحت اہلکار اس تہہ کا تین بار معائنہ کرے گا۔
خشک ہونے کے بعد سفیدی کی تہہ میں دراڑیں پڑنے کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہونے چاہییں، اور نہ ہی اسے انگلیوں سے رگڑنے پر سفیدی انگلیوں پر لگنی چاہیے۔
رنگین سفیدی بھی اسی طریقے سے تیار کی جائے گی جس طریقے سے عام سفیدی تیار کی جاتی ہے۔ البتہ اس میں مطلوبہ رنگت حاصل کرنے کے لیے مناسب مقدار میں رنگ دار مادہ شامل کیا جائے گا، تاکہ آمیزہ خشک ہونے کے بعد مطلوبہ رنگ اختیار کر لے۔
کسی کمرے میں کام شروع کرنے سے پہلے اتنی مقدار میں رنگین سفیدی تیار کر لی جائے کہ کمرے کی تمام دیواروں پر یکساں رنگ چڑھانے کے لیے کافی ہو۔ کام دن میں اتنی جلد شروع کیا جائے کہ کمرے کی سفیدی شام ہونے سے پہلے مکمل ہو جائے۔
پائیدار، یکساں اور دھو کر صاف کی جا سکنے والی رنگین سطح حاصل کرنے کے لیے رنگ کو سفید چونے کے گاڑھے آمیزے (چونے کی پٹی) میں ملایا جا سکتا ہے۔ اس آمیزے کو دیوار کی پلستر شدہ سطح پر آخری تہہ کے طور پر لگایا جائے۔ اس تہہ کی موٹائی ایک انچ کا آٹھواں حصہ ہونی چاہیے۔
ہر روز، جب تک تحریری طور پر کوئی مختلف ہدایت نہ دی گئی ہو، صرف اتنی مقدار میں ڈسٹمپر تیار کیا جائے گا جتنی اس دن کے کام کے لیے درکار ہو۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی کمرے میں کام دن کے اتنے آخری حصے میں شروع نہ کیا جائے کہ ڈسٹمپر کی تہہ غروبِ آفتاب سے پہلے مکمل نہ ہو سکے۔
ڈسٹمپر صرف خشک موسم میں ایک چوڑے اور سخت برش کی مدد سے لگایا جائے گا۔ اگلی تہہ لگانے سے پہلے ہر تہہ کو مکمل طور پر خشک ہونے دیا جائے گا۔
ابتدائی تہہ لگانے سے پہلے پلستر کی تمام ناہمواریوں کو دور کرکے سطح کو درست کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک کام کے لیے تیار کی جانے والی بنیادی سطح بالکل ہموار اور صاف نہ ہو، اس وقت تک خوش نما اور عمدہ نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
خشک آب و ہوا میں استعمال ہونے والا ڈسٹمپر انتہائی پائیدار ہوتا ہے۔ نقصان دہ گیسوں سے متاثر نہ ہونے کی وجہ سے یہ زرد نہیں پڑتا اور نہ ہی وقت گزرنے کے ساتھ اس کے رنگ میں تبدیلی آتی ہے۔
جن دیواروں پر ڈسٹمپر کرنا ہو، ان پر ابتدائی طور پر کلیر کول (Claire-colle) کی ایک تہہ لگانا ضروری ہے۔ یہ گاڑھے سریش یا گوند، سفید مٹی (وائٹنگ) اور تھوڑی سی پھٹکری کا آمیزہ ہوتا ہے۔ اس تہہ کا مقصد دیوار کی جانب سے نمی یا مائع کے تیزی سے جذب ہونے کو روکنا اور ڈسٹمپر کے لیے ایک مضبوط بنیادی سطح فراہم کرنا ہے۔
گاڑھا کیا ہوا سریش یا معیاری گوند استعمال کیا جائے۔ سریش کی ضرورت سے زیادہ مقدار استعمال کرنے، یا جزوی طور پر گل سڑ جانے والے سریش کے استعمال سے ڈسٹمپر میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں یا اس کی تہہ اکھڑ سکتی ہے۔
کسی پرانی سطح پر ڈسٹمپر کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ڈسٹمپر کی تمام پرانی تہوں کو لازماً اتار دیا جائے۔ اس سطح کو درست کرنے کا سب سے تسلی بخش طریقہ یہ ہے کہ اسے شیشے کے کاغذ (Glass Paper) سے رگڑ کر ہموار کیا جائے، پھر اس کے سوراخوں اور ناہمواریوں کو ایلابیسٹین (Alabastine) سے پُر کیا جائے، یا اس پر موٹا استر دار کاغذ چڑھا دیا جائے۔ اگر آخری رنگ ہلکا ہو تو استر کا کاغذ سفید ہونا چاہیے، اور اگر آخری رنگ گہرا ہو تو بھورا کاغذ استعمال کیا جائے۔
جن چھتوں پر رنگت خراب ہو چکی ہو اور ڈسٹمپر کی تین یا چار تہیں لگانے، حتیٰ کہ استر دار کاغذ چڑھانے کے باوجود مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو، وہاں عموماً متاثرہ حصے پر سفید ناٹنگ (White Knotting) کی دو تہیں لگانے کے بعد سفید میٹ پینٹ (White Flat Paint) کی ایک تہہ لگانے سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
چھتوں کا رنگ ہمیشہ دیواروں کے غالب رنگ سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر، اگر دیواریں نیلی ہوں تو چھت کی سفیدی میں تھوڑی سی الٹر ا میرین (Ultramarine) شامل کی جائے۔ اگر دیواریں سبز ہوں تو چونے سے متاثر نہ ہونے والا تھوڑا سا سبز رنگ شامل کیا جائے۔ اگر دیواریں بھوری ہوں تو چھت کی سفیدی کریم رنگ کی ہونی چاہیے۔ اسی طرح دیگر رنگوں کے لیے بھی مناسب رنگ شامل کیا جائے۔ ہر صورت میں رنگ کی مقدار صرف اتنی ہونی چاہیے کہ سفید رنگ کی خالصتاً سفیدی ختم ہو جائے اور اس میں ہلکی سی رنگت پیدا ہو جائے۔
ڈسٹمپر کرنے میں کامیابی کا انحصار تیزی اور اعتماد کے ساتھ رنگ لگانے پر ہے، اور اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کسی حصے کے کنارے خشک نہ رہ جائیں۔ اگرچہ عام طور پر ڈسٹمپر کی دو تہیں لگانے کی ہدایت دی جاتی ہے، لیکن بہترین نتائج ایک ہی تہہ لگانے سے حاصل ہوتے ہیں۔ اسی لیے ماہر کاریگروں کی صورت میں، اگر پہلی تہہ معیار کے مطابق نہ ہو تو اسے درست کرنے کے لیے دوسری تہہ لگانے کے بجائے پہلی تہہ کو دھو کر اتار دینا اکثر زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
درج ذیل ہدایات ہیلیز ڈسٹمپر (Hali’s Distemper) کے لیے ہیں۔
جب ڈسٹمپر استعمال نہ ہو رہا ہو تو اس کے پیکٹ کو بند رکھنا چاہیے، تاکہ وہ سخت نہ ہو جائے۔
استعمال کے لیے ڈسٹمپر تیار کرنے کی خاطر پانچ پاؤنڈ ڈسٹمپر میں تقریباً ایک پائنٹ پانی شامل کیا جائے۔ اس آمیزے کو اچھی طرح ہلایا جائے، یہاں تک کہ اس کی گاڑھا پن موٹی کریم جیسا ہو جائے۔ اگر ڈسٹمپر سخت ہو گیا ہو تو اس میں گرم پانی استعمال کیا جائے۔
کسی دیوار یا چھت پر ڈسٹمپر کرنے سے پہلے وائٹنگ (سفید مٹی) یا چونے کی پرانی تہہ کو دھو کر اتار دینا چاہیے۔ تاہم کاغذی وال پیپر اتارنا ضروری نہیں، جب تک کہ وہ ڈھیلا نہ ہو، پھٹا ہوا نہ ہو، یا اس کے نقش و نگار میں سونا شامل نہ ہو یا اس کا نقش بہت زیادہ۔۔۔
اگر وال پیپر کے نقش و نگار بہت نمایاں ہوں تو عموماً اس پر ڈسٹمپر کی دو تہیں لگانا ضروری ہوتا ہے۔
ایسی سطح پر ڈسٹمپر لگانے سے پہلے پرائمی سائز (Primisize) کی ایک ابتدائی تہہ لگانا ضروری ہے جو کسی حد تک مسام دار ہو یا جس پر مرمت کے آثار نمایاں ہوں۔ نم زدہ دھبوں یا ایسی جگہوں کے لیے جہاں پلستر کے اندر موجود نمکیات سطح پر ابھر رہی ہوں، نمی روکنے والا محلول سسکو (Sisco) استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
خراب پلستر پر بھی اچھا نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ پہلے اس پر کم قیمت کا استر دار کاغذ چڑھا دیا جائے۔ جن دیواروں کو زیادہ رگڑ یا استعمال کا سامنا رہتا ہو، ان پر ڈسٹمپر کرنے کے بعد وارنش لگانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص معیار کی وارنش فراہم کی جاتی ہے۔
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر ڈسٹمپر کو ضرورت سے زیادہ پتلا نہ کیا جائے تو نئی سطح پر عموماً ایک ہی تہہ کافی ہوتی ہے اور اس سے ایسا نتیجہ حاصل ہوتا ہے جو آئل پینٹ کی دو تہوں کے برابر ہوتا ہے۔
برش کو ایک ہی سمت میں چلانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، اسٹپلنگ (Stippling) کا عمل بھی سطح کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ اس طریقے میں ایک مخصوص چپٹے برش کی مدد سے تازہ ڈسٹمپر شدہ سطح پر ہر جگہ ہلکے ہلکے تھپتھپایا جاتا ہے، تاکہ ڈسٹمپر لگاتے وقت برش کے رہ جانے والے نشانات ختم ہو جائیں۔
ڈسٹمپر لگانے کے بعد تین ہفتے گزرنے سے پہلے اسے دھونا نہیں چاہیے۔ تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی صفائی کے لیے صرف نیم گرم پانی میں ڈبویا ہوا اسفنج استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے سطح پر نہایت نرمی سے پھیرا جائے۔
برجرز میٹروئل (Berger’s Matroil) پینٹ اور ڈسٹمپر کے درمیان کی ایک قسم ہے۔ یہ تیل کے ساتھ تیار کردہ گاڑھا آمیزہ ہوتا ہے، جسے ٹھنڈے پانی سے پتلا کیا جاتا ہے اور جو سطح پر بغیر چمک کے ہموار تہہ بناتا ہے۔ اسے دھو کر صاف کیا جا سکتا ہے، اور اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ چونے اور روشنی کے اثرات کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے۔
جب کسی رنگت کو ہلکا کرنا ضروری ہو تو سفید رنگ کے بجائے کریم رنگ استعمال کرنا چاہیے۔ خشک رنگ یکساں طور پر نہیں ملتے، اس لیے رنگت میں تبدیلی لانے کے لیے ان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
برش استعمال کرنے کے فوراً بعد اچھی طرح دھو لینے چاہییں، اس سے پہلے کہ ڈسٹمپر خشک ہو کر سخت ہو جائے۔ اگر برش کے ریشے نرم پڑ جائیں تو برش کو تارپین کے تیل یا پیٹرولیم میں ڈبو دینا چاہیے۔
جن سطحوں پر وال پیپر لگانا ہو، انہیں پہلے احتیاط سے ہموار اور مکمل طور پر تیار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ناریل کے آدھے خول سے سطح کو رگڑ کر ہموار کیا جائے گا۔
پلستر کے تمام ڈھیلے یا الگ ہو جانے والے حصوں کو ہٹا کر دوبارہ پلستر کیا جائے گا۔ کسی بھی دراڑ کے کناروں کو تراش کر اصل سطح کے برابر کیا جائے گا، اور تمام گڑھوں یا نشیبی حصوں کو وائٹنگ (سفید مٹی) سے بھر دیا جائے گا۔
پھٹے ہوئے یا دراڑوں والے مٹی کے پلستر پر لیپنگ (Leeping) کی ایک تہہ لگائی جائے گی۔“
