احمد علی کی ”ہماری گلی“ اور پریم داس کی ”بِساری گلی“

انٹرنس کے دنوں میں احمد علی کا مشہور افسانہ ”ہماری گلی“ پڑھا تھا۔ کچھ حصے بے حد پسند آئے تھے۔ مجھے یاد ہے، کتاب کا سرورق گہرا نیلا تھا۔ حاشیے میں سنہرے اور رُوپہلے بیل بوٹے بنے ہوئے تھے۔ یہ مجموعہ میں نے استادِ محترم جناب اشرف آصف کے لائبریری کارڈ پر میونسپل کتاب خانے …

انٹرنس کے دنوں میں احمد علی کا مشہور افسانہ ”ہماری گلی“ پڑھا تھا۔ کچھ حصے بے حد پسند آئے تھے۔ مجھے یاد ہے، کتاب کا سرورق گہرا نیلا تھا۔ حاشیے میں سنہرے اور رُوپہلے بیل بوٹے بنے ہوئے تھے۔ یہ مجموعہ میں نے استادِ محترم جناب اشرف آصف کے لائبریری کارڈ پر میونسپل کتاب خانے (چکوال ) سے نکلوایا تھا۔ ظاہر ہے، ان دنوں میں احمد علی کے نام یا کام سے آگاہ نہ تھا۔ افسانے کے محتویات میں سیاسی نکات بھی شامل تھے۔ گاندھی، ترک موالات، فرنگیوں کی چالاکیاں، ہندوستانیوں کی بد اطواریاں۔ انٹر کے لڑکے کو ان خرخشوں سے کیا دل چسپی ہو سکتی ہے۔ البتہ بیچ بیچ میں گلی کے متنوع کرداروں نے دل چسپی کا سامان پیدا کر رکھا تھا۔ یہ کردار ایسے عام تھے کہ برصغیر کی ہر گلی میں ڈھونڈے جا سکتے تھے۔ یہی افسانے کی خاص بات تھی۔ مرزا دودھ والا، صدیق بنیا، مرزا کا جواں مرگ بیٹا، پگلی، کلو بیوہ، بھانت بھانت کے لوگ اور ان کی کہانیاں۔ افسانہ پڑھ کر جی چاہا تھا، میں بھی اپنی گلی کی بابت کچھ لکھوں۔ ہمارے انگریزی کے استاد، جناب سجاد کاظمی کو آلیور گولڈ سمتھ کی نظم The Deserted Village بہت پسند تھی۔ گولڈ سمتھ کی انگریزی میرے لیے اجنبی تھی۔ لیکن نظم کا ایک مصرع ہمیشہ کے لیے ذہن پر ثبت ہو گیا : The country blooms, a garden, and a grave۔ یہ نظم بھی ایک کھوئے ہوئے گاؤں کی یاد میں تھی۔ ایم اے کے پہلے سال شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول، کئی چاند تھے سر آسماں، پڑھا تو اس کے آخر میں آلیور گولڈ سمتھ کی شہرہ آفاق نظم The Traveller کے مصرعے بھی دیکھے۔

My prime of life in wandering spent and care…

قصہ کوتاہ ان دونوں فن پاروں نے میرے نوجوان ذہن کو بچپن کی گلی کے بارے میں لکھنے کی تشویق دلائی۔ میرا بچپن کیمبل پور میں گزرا ہے۔ وہ زمانہ سادگی کا تھا یا شاید ہمیں زمانے کی ہوا نہ لگی تھی کہ سوائے معصومیت کے کوئی شے حافظے کی پوٹلی میں نہ مل سکی۔ اولاً کئی نقشے ذہن میں جمتے گئے لیکن لکھنے بیٹھا تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ ہِر پِھر کر دو کردار ہاتھ آئے۔ ایک خوانچے والا، دوسرا گھر گھر سامان بیچنے والی پٹھان عورتوں کا۔ دونوں کا قصہ دل چسپ ہے۔ انٹر میں قصے کو لکھنے کا خیال نسیاً منسیاً ہو گیا۔ آج ایک سبیل سے یہ روداد لکھنے کو ازسرنو جی چاہا ہے، جس کا حال تحریر کے آخر میں کھلے گا۔ یہ اکیسویں صدی کے آغاز سے ایک دو برس پہلے کی بات ہے۔ خوانچے والا گلی گلی میں حلوے یا بتاشوں کا تھال اُٹھا کر گھومتا تھا۔ ان دنوں ہماری معصوم روح صوفی غلام مصطفی تبسم کے ”جھولنے“ میں جھولتی تھی :

خوانچے والے خوانچہ لا

خوانچہ لا

منّے مجھ کو دام دکھا

دام دکھا

اکیسویں صدی کی نسل نے خوانچے والے شاید نہ دیکھے ہوں۔ ان میں سے اکثر سادہ و بے رِیا ہوتے تھے۔ قسمت کے مارے، تھال میں گھر کا مال لیے گلی گلی گھومتے تھے۔ جہاں ٹھیکی ملی، دوکان کھول لی۔ دو روپے کا حلوہ، ایک روپے کی شیرینی، چند پیسوں کی بوندی۔ قسمت اچھی ہوتی تو بتیسہ اور لچھا بھی ملتا۔ لچھا کھانا ایک فن تھا۔ کھائیے اور گرنے نہ دیجیے یعنی کج دار و مریز۔ ورنہ پورا دن لچھے کی ہڑیں چُننے میں گزر جائے گا۔ خوانچے والے کی آواز بڑی پاٹ دار ہوتی تھی۔ آدھ میل دور سے سنائی دیتی۔ بچے پہلے سے لجاجت کرنے لگتے۔ اماں کا دامن ہاتھ میں، نانی کا دوپٹہ گرفت میں۔ جہاں داؤ چل جائے۔ کچھ نہیں تو رونا چلانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا۔ آنسو کی حرارت ماں اور نانی کا دل پگھلاتی اور بچے کو مراد تک پہنچاتی۔ خوانچے والے کی حکایت کو رومی نے ابد آباد کے لیے زندہ و جاوید کر ڈالا ہے۔ دفترِ دوم میں شیخ احمد خضرویہ کا قصہ درج ہے۔ شیخ صاحب کی سخاوت شرق و غرب میں مشہور تھی۔ قرض لیتے اور لوگوں کی ضروریات کا سامان کرتے۔ آخرِ کار عمر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ نزع کے وقت قرض خواہ گھر میں بیٹھے تھے۔ کہنے سننے کو یارا نہ تھا، ہُو کا عالم، موت کے سائے۔ اتفاقاً گلی سے ایک کم سن خوانچے والے کا گزر ہوا۔ لڑکے نے تھال حلوے سے بھر رکھا تھا۔ احمد خضرویہ پر سکرات کا عالم طاری تھا۔ انھوں نے خدمت گار کو نصیحت کی کہ قرض خواہوں کو حلوہ کھلائے۔ خوانچے والا غریب لڑکا تمام تھال بِکنے پر خوش ہو گیا۔ قرض خواہوں نے بھی حلوہ کھانے کے بعد کچھ دیر کو خاموشی اختیار کر لی۔ اِدھر خوانچے والا سارے عالم و کیفیت سے بے خبر روپے مانگنے پر اصرار کرنے لگا۔ جب یافت کی صورت نہ دیکھی تو چیخنے چِلانے اور آہ و زاری کا آغاز ہوا۔ عصر تک لڑکے کا تضّرع جاری رہا۔ لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ لوگ سمجھاتے تھے لیکن وہ نہ سمجھتا تھا۔ گریے میں خدا سے شکوہ شکایت کے دفتر کھل گئے۔ گھر کا کیا بنے گا، اماں کی دوا کہاں سے آئے گی، ابا کی غذا بھی راہ نہ پائے گی۔ معصوم ذہن میں اندیشوں نے گرہیں ڈال دیں۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ غیبی مدد آن پہنچی۔ ایک خادم طباق کو کپڑے سے چھپائے آیا۔ صافہ اُٹّھا تو قرض خواہوں کی چیخیں نکل گئیں۔ طباق میں چار سو درم گولائی میں سجائے گئے تھے۔ یہی قرض خواہوں کی کُل رقم تھی۔ لیکن عبرت یہ تھی کہ طباق کے بیچوں بیچ، عین وسط میں آدھا دینار بھی دھرا تھا، جو خوانچہ فروش لڑکے کے حلوے کی قیمت تھی۔ شیخ مسکرائے اور ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ آگے کا سبق میں کج زبان کیوں کر سناؤں۔ رومی سے سُن لیجیے :

گفت ایں دینار اگرچہ اندک است

لیک موقوف غریو کودک است

تا نگرید کودک حلوہ فروش

بحرِ بخشش در نمی آید بجوش

اے برادر طفل طفلِ چشمِ تست

کام خود موقوف داری زاں نخست

کام خود موقوف زاریٔ دل است

بے تضّرع کامیابی مشکل است

گر ہمی خواہی کہ آں خلعت رسد

پس بگریاں طفل دیدہ بر جسد

(ترجمہ : اللہ تعالی نے فرمایا، یہ اگرچہ تھورے سے دینار ہیں لیکن بچے کے رونے پر موقوف ہیں۔ جب تک حلوہ فروش کا لڑکا نہ روئے، بخشش کا دریا جوش میں نہ آئے گا۔ اے بھائی ! بچہ تیری آنکھ ہے۔ پہلے اپنے مقصد کو رونے پر موقوف کر لے۔ اپنا مقصد دل کے رونے پر موقوف ہے، گڑگڑائے بغیر کامیابی ملنا مشکل ہے۔ اگر تو چاہتا ہے ، کامیابی کی پوشاک تجھے مل جائے تو آنکھ کے بچے کو جسم کی ضرورت پر رُلا۔)

رومی کے اسلوب کے آگے کس کی پیش چلتی ہے۔ خوانچے والے کا قصہ یہیں چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔ والسلام

اوپر گھر گھر سامان بیچنے والی پٹھان محنت کش عورتوں کا ذکر آ چکا ہے۔ انھیں مقامی زبان میں پالی کہتے تھے۔ میں پالی کے مطلب سے ہنوز ناواقف ہوں۔ لیکن یہ ہمارے بچپن کے با وزن الفاظ میں سے ایک تھا۔ بچوں کے دل میں پالیوں کا خوف نعمان بن المنذر سے بڑھ کر ہوتا۔ ”سو جاؤ ورنہ پالی آ جائے گی، کھانا کھا لو ورنہ پالی کھا جائے گی۔“ ہمارے گھر کا ایک دریچہ نئے انداز کا تھا۔ گھر کی روکار سے دو فٹ باہر کو نکلا ہوا تھا۔ ہم دن بھر اس میں کھڑے رہتے اور آتے جاتے لوگوں کو تاکتے۔ شمال کی جانب ایک گلی دور تک چلی گئی تھی۔ اس گلی کی لمبائی آدھ کلومیٹر ضرور ہو گی۔ آس پاس ایک منزلہ گھروں کی قطار تھی۔ گلی کشادہ اور صاف تھی۔ دور سے آنے والا، چاہے چیونٹی کی چال چلتا ہو، واضح دکھائی دیتا تھا۔ یہیں سے پالیاں آتی دکھائی دیتیں۔ ہم دوڑ کر اندر جاتے اور ان کی آمد کا مژدہ سناتے۔

آج سوچتا ہوں تو یہ پالیاں معاشرے کے بڑے ستھرے کردار کے طور پر نظر آتی ہیں۔ محنت سے کام کرنے والی، گھریلو سازشوں اور علمی ٹَنٹوں دونوں سے دور کم گو عورتیں۔ الکاسب حبیب اللہ! پالیوں کا مخصوص لباس ہوتا۔ سیاہ رنگ کا کھلی گول محیط کی قمیصیں، جن کے کنارے چوڑی سنہری گوٹ لگی ہوتی۔ گوٹ کا رنگ کب کا اُڑ چکا ہوتا۔ بوسیدہ اور گرد سے اَٹا ہوا پاجامہ۔ پاؤں میں ٹوٹے ہوئے پیزار۔ دبیز اور کھلے گھیر والے چادریں اوڑھے، سرمے کی یہ موٹی موٹی سلائیاں لگائے اجلی رنگت کی اجنبی عورتیں۔

خدا جانے کیوں لیکن میری کلپنا میں پالیوں کا کردار اشرف صبوحی کی کوئلِ زنانہ سے ملتا جلتا معلوم ہوتا ہے۔ پاک دل، صاف اطوار۔ دنیا کے تکلفات سے دور۔ جب جب کوئل کی داستان پڑھی، آب دیدہ ہوا اور ان گم نام عورتوں کے واسطے دعا کی۔ بقول سعدی:

بسا ماہرویانِ شمشاد قد

بسا نازنیانِ خورشید خد

کہ کردند پیراہنِ عمر چاک

کشیدند در گریبانِ خاک

(بہت سے خوب صورت، شمشاد جیسے قد والے، بہت سے معشوق آفتاب جیسے رُخسار والے۔ جنھوں نے زندگی کا کُرتا چاک کر ڈالا اور سر کو مٹی کے گریبان میں کھینچ لیا۔)

یہ ساری تفصیلات اور عبرت انگیز قصے مجھے ایک سادہ سے مضمون سے یاد آئے ہیں۔ مضمون لاہور کی کسی گمنام اور فراموش شدہ گلی کے بارے میں ہے۔ 1914 ء کی ایک گلی۔

لوگ آباد ہوا کرتے تھے

اس قدر شور کہاں تھا پہلے

اس گلی کو یاد کرنے والے کو یاد کرنے والا بھی کوئی نہ رہا۔ یہ صاحب پریم داس ہیں۔ کون کا جواب دینا مشکل ہے۔ 1914ء کے راوی میں ان کا انگریزی مضمون پڑھا اور ذہن میں یادوں کا ایک بہتا بہاتا دریا اُمڈ آیا۔ جی چاہا، لاہور کی گم نام گلی کی بابت اس مضمون کا ترجمہ کروں لیکن محض ترجمہ ہی مقصد نہ تھا، دل کی باتیں بھی ساجھی کرنا تھیں۔ پریم داس کی گلی دیکھیے اور اپنی کھوئی ہوئی گلی پر بھی دو اشک بہا لیجیے کہ اب واپسی معلوم، حافظ:

غمِ غریبی و غریب چہ بر نمی یابم

بہ شہر خود رَوم و شہریارِ خود باشم

(غریب الوطنی اور اجنبی ہونے کا دکھ مجھ سے سہا نہیں جاتا۔ کاش میں اپنے شہر واپس جاؤں اور اپنے شہر کا خود بادشاہ بنوں۔)

”لاہور کی وہ گلی، جس میں ہمارا گھر واقع تھا، ایک کشادہ اور سنسان گلی تھی۔ اس کچی گلی کی مٹی آج بھی ننگے پاؤں کے نیچے ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے۔ میں تب بہت کم سن تھا اور گلی سے ملحق کھلی جگہ میں کھیلا کرتا تھا۔ اکثر جب میں تنہا بیٹھتا ہوں تو اس پوری جگہ کی تصویر میرے سامنے اُبھر آتی ہے۔ مجھے بیچوں بیچ کھڑا ہوا برگد کا وہ عظیم درخت دکھائی دیتا ہے، جس کے گھنے اور سیاہ پتوں کو بھوتوں اور بدروحوں کا بسیرا سمجھا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے، جب میں اس کے نیچے سے گزرتا تو اپنے قدم تیز کر لیتا اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا تھا۔

مجھے وہ تاریک سا گوشہ بھی دکھائی دیتا ہے جہاں سانولی رنگت والے باگری لوگوں کے چھوٹے چھوٹے، میلے کچیلے گھر تھے۔ وہیں مجھے دو عورتوں کی تصویریں بھی یاد آتی ہیں، جن کے سفید، ہاتھی دانت جیسے دندان ان کے سیاہ چہروں میں یوں دمکتے تھے جیسے تاریک رات میں چاند چمکتا ہے۔ وہ نالی کے اوپر رکھی چارپائیوں پر بیٹھا کرتی تھیں اور ہمیشہ کالے اُون سے کچھ نہ کچھ کام کرتی رہتی تھیں۔ مجھے اپنے گھر کے عین سامنے بیٹھا ہوا رسّی بنانے والا بھی یاد آتا ہے، جس کے چرخے کی مدھم اور خوش گوار بھنبھناہٹ گرمیوں کے لمبے، تپتے دنوں کی دوپہر میں ایک عجیب سی دل آویزی پیدا کرتی تھی۔ مجھے اپنا آپ اور چند شرارتی لڑکے بھی دکھائی دیتے ہیں جو کھلی جگہ کے ایک کونے میں لگے بیر کے درخت پر پتھر پھینکا کرتے تھے۔ مجھے وہ موٹا تازہ ٹھیکے دار بھی یاد ہے، جو اپنے چھوٹے سے کمرے میں آرام دہ کرسی پر سست پڑا رہتا تھا اور گزرنے والے ہر شخص کو اپنی آنکھوں سے بے دھیانی میں دیکھتا جاتا تھا۔ وہ اونچا کبوتر خانہ بھی جو ایک بہت لمبے بانس کے اوپر بنایا گیا تھا، جہاں کبوتر اور فاختائیں آ کر بیٹھا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی ایک کنواں تھا جس کی چرچراتی اور چیختی ہوئی چرخی کی آواز دور تک سنائی دیتی تھی، اور جس کے گرد عورتیں اپنے مٹی کے گھڑے لیے جمع رہتی تھیں۔ تین چار آوارہ کتے بھی، جو میرے جگری دوست تھے اور میری آواز سنتے ہی دُمیں ہلاتے ہوئے میرے پاس دوڑے چلے آتے تھے۔

کچھ عرصہ پہلے جب مجھے اس گلی میں جانے کا اتفاق ہوا تو میں اپنے بچپن کے دنوں کی اس پیاری پرانی گلی کو دیکھنے جا پہنچا۔ یوں لگا جیسے میں کسی بالکل اجنبی محلے میں آ نکلا ہوں۔ جو گلی کبھی مجھے بے حد کشادہ دکھائی دیتی تھی، اب تنگ محسوس ہو رہی تھی۔ میں برگد کے درخت کے نیچے سے گزرا، مگر میرے دل میں کوئی دھڑکن پیدا نہ ہوئی۔ مجھے یہ سوچ کر کچھ ہنسی بھی آئی کہ کبھی میں سمجھا کرتا تھا، اس درخت میں بھوت رہتے ہیں۔میں نے اس امید کے ساتھ اوپر اٹھ کر اس کے گھنے پتوں میں جھانکا کہ شاید کوئی چمکتی ہوئی آنکھیں مجھے اوپر سے تاک رہی ہوں گی، مگر وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ بیر کا درخت اب بھی موجود تھا، مگر ایسا لگتا تھا جیسے اس پر ویرانی چھا گئی ہو۔ وہ لڑکے کہاں گئے تھے جو اس پر پتھر برسایا کرتے تھے؟ کنواں بھی پہلے کی طرح چرچرا رہا تھا، مگر اب جو عورتیں وہاں پانی بھرنے آتی تھیں، وہ اپنے چہروں کو مجھ سے یوں چھپا رہی تھیں کہ میں ان میں سے کسی کو پہچان نہ سکتا تھا۔

(یوں تیری انجانی جوانی راہ میں آئی

جیسے تُو بچپن میں میرے ساتھ نہ کھیلا)

ایک آوارہ کتا کسی گھر سے نکلا اور مجھ پر بھونکنے لگا۔ شاید وہ میرے ان پرانے دوستوں کی نسل ہی میں سے تھا، لیکن اس کے انداز و اطوار میں اپنے بزرگوں جیسی شرافت اور اپنائیت نہ تھی۔ صرف ایک شخص ایسا تھا جسے میں پہچانتا تھا، اور وہ بوڑھا رسّی بنانے والا تھا۔میں نے اس سے گھر کے بارے میں کچھ سوال کیے، جسے میں اب بھی ’’ہمارا گھر‘‘ ہی کہتا تھا۔ میرے سوال سن کر اس کے چہرے پر پہچان کی ایک جھلک نمودار ہوئی۔ اس نے کہا، ’’اوہ! تو آپ فلاں کے بیٹے ہیں، جو دو دہائی پہلے یہاں ہوا کرتے تھے۔۔۔“

اس کے سوالات سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس نے مجھے میرا بڑا بھائی سمجھ لیا ہے۔ میں نے اس کی درستی نہیں کی۔ میں اپنے پرانے دوستوں، شرارتی لڑکوں، آوارہ کتوں اور بدروحوں کے بارے میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا، مگر میرے ہونٹوں سے کوئی سوال نہ نکل سکا۔ اچانک مجھے احساس ہوا، زندگی بدلنے سے عبارت ہے، جانے والا وقت ہو یا بھولی بسری گلیاں، وہ خوابوں کے علاوہ کہیں اور نمودار نہیں ہوتیں۔ لیکن سوچیے اگر خواب بھی نہ ہوتے۔“

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button