1919ء میں پوچھے جانے والا اہم سوال : 2020ء کا لاہور کیسا ہو گا؟
محبوب خزاں کا شعر ہے :
کیسے آ جاتی ہے کونپل پہ یہ جادو کی لکیر
دن گزر جاتے ہیں محسوس کرو یا نہ کرو
دنوں کا ڈھلنا اور راتوں کا ہاتھ سے نکلنا! اس بارے میں ہم سب عین الیقین کے درجے پر فائز ہیں۔ بیسویں صدی کے اہم فرانسیسی ادیب مارسل پروسٹ کے بارے میں معروف ہے : وہ پوری عمر اپنی موت کا اندازہ لگاتا (غالب کے آخری سال بھی اسی شغل میں گزرے) اور دوستوں کو وحشت ناک خطوط لکھتا رہا۔
پروسٹ (جو تمام عمر دمے اور پھیپھڑوں کے ضعف سے برسر پیکار رہا اور اکاون برس میں چل بسا) جانتا تھا، اس کی بگڑتی ہوئی جسمانی حالت کے مقابلے میں میسر وقت سرعت سے ڈھل رہا ہے۔ اپنی عظیم تصنیف "À la recherche du temps perdu” (جس کا انگریزی ترجمہ In Search of Lost Time کے عنوان سے سات جلدوں میں ہوا) کے دوران اُس کی محویت، دراصل خارجی دنیا کے شور و شغب سے فرار کی ایک صورت تھی۔ آخری دنوں میں اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی۔ وہ بار بار ایک لفظ دہراتا، ”وقت، وقت، وقت ۔۔۔“
کیا چیتنے کا فائدہ جو شیب میں چیتا
سونے کا سماں آیا تو بیدار ہوا میں
(میر)
چیخوف، ٹالسٹائی، ایڈگر ایلن پو اور شارل بادلیئر سمیت دیگر کئی ادیب آخری لمحات میں ابدی محویت اور آفاقی گم شدگی سے فرار کے خواہاں تھے۔
یہ ساری رام لیلا مجھے فلپ ارنسٹ رچرڈز (1920ء-1875ء) کے بے مثال خطوں کے مجموعے، Indian Dust ,کا ایک خط پڑھنے کے دوران یاد آئی۔ رچرڈز، دیال سنگھ کالج، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ اور گورنمنٹ کالج لاہور میں (1920ء-1911ء) انگریزی ادب کے نوجوان پروفیسر تھا۔ مشہور آئرش فنکارہ نورا رچرڈز اس کی بیوی تھی۔
1919ء میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے انگریزی پرچے میں رچرڈز نے طلباء سے عجیب و غریب سوال پوچھے۔ رچرڈز جس جماعت کو پڑھاتا تھا، اس میں ہر طرح کے مذہب کے طلباء شامل تھے۔ ہندو، سکھ، عیسائی، مسلم، جین، بودھ۔ برطانیہ سے آئے نوجوان پروفیسر کے لیے یہ تنوع حیران کن تھا۔ رچرڈز کا مدعا متنوع طلباء کے قوت تخیل کا اندازہ لگانا تھا۔ آج پرچہ ہمارے سامنے نہیں لیکن رچرڈز نے پرچے کی روداد اپنی والدہ کے نام خط میں لکھی ہے۔ ملحوظ رہے، یہ 1919ء کے سال کے آخری دن (31 دسمبر) کا واقعہ ہے، جب وہ اپنی ابدی نیند سے محض پانچ مہینوں کے فاصلے پر تھا :
”ہم سن 2020ء میں کہاں ہوں گے؟ اُس وقت ہندوستان سے اپنی ماں کو خط کون لکھے گا؟ پہلی سطر طلباء کے لیے امتحانات کے سوال نامے میں شامل ہے۔ میں سوال نامے بناتا رہا ہوں۔ لیکن اس نوع کے سوالوں پر نمبر دینے کی امید نہیں رکھتا۔ سچ یہ ہے کہ ان سوالوں کا جواب سوائے کلپنا کی تیزی کے اور کچھ نہیں۔ آخر میں کلپنا ہی بچتی ہے!
[ نوٹ : غور کیجیے، کلپنا کا یہ تصور آئن سٹائن کے مقولے سے کتنا قریب ہے اور جسے اس نے اپنی گاڑی پر لکھوا رکھا تھا :Imagination is more important than knowledge. For knowledge is limited to all we now know and understand, while imagination embraces the entire world, and all there ever will be to know and understand. ]
اسلامیہ کالج [ریلوے روڈ] کا کیا حال ہوگا؟ کیا انگریز اس وقت تک ہندوستان میں ہوں گے؟ شاید یہ سوال ہمارے مقابلے میں ہندوستان کے لیے زیادہ اہم ہے۔“
یہ خط ایک ایسے نوجوان پروفیسر ہے جس نے ہندوستان (لاہور) کی محبت کو اپنے وجود کا حصہ بنا رکھا تھا اور جس کی بیوی کو بعد ازاں، دیال سنگھ کالج کی ماں اور ہندوستان بھر کی دادی کہا گیا۔ لاہور کی مٹی سے محبت کے لیے اقتباسات ملاحظہ ہوں :
”لاہور آئے ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔ یہاں کا ہر دن پہلے سے زیادہ سے روشن ہوتا ہے۔ دھوپ پر چیز پر غالب آ جاتی ہے۔ بارش کا نام و نشان نہیں۔ اگر میرے پاس خدائی صفات ہوتیں تو تمہیں میں اس دھرتی کی دل کشی کے بارے میں بتاتا۔ لیکن کیا یہ کم ہے، مجھے لاہور کی تانبا ہوتی زمین اور خالص لوگوں کے درمیان رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔“
”چولہے میں لکڑیاں سرخوشی سے بھڑک رہی ہیں۔ میں نے اور نورا نے ابھی ابھی تمہارا وہ خط پڑھا، جس میں عیسائی مشنریوں کے نئے گروہ کی لاہور میں آمد کا مذکور ہے۔ دل سے پوچھو، کیا ہندوستان نئے مذہب کا متحمل ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ ہندوستان میں مذاہب کی تعداد پہلے ہی زیادہ ہے۔ ضرورت سے زیادہ۔ ہندوستان کو اصل میں جو شے درکار ہے، وہ تجارت اور معاشی ترقی کے ذرائع ہیں۔ یہ معاشی نجات کی واحد صورت ہے۔ دوسری اہم چیز سیاسی دانائی اور حکمت ہے، اور یہ عیسائی مشنری کسی طور فراہم نہیں کر سکتے“۔
غور و فکر اور مشاہدے کی تیز قوت والا یہ نوجوان جون 1920ء میں لاہور میں پیوند خاک ہو گیا۔ رچرڈ کے خطوط آج بھی بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے لاہور کو سمجھنے کی شہ کلید ہیں۔ 31 دسمبر 1919ء کو لکھے جانے والے خط کے پورے ایک سو سات برس بعد ہم اسی فاصلے پر بیٹھے ہیں، جس کا پروفیسر رچرڈز کو انتظار تھا۔ سوال وہی ہے جو رچرڈز نے پوچھا تھا : آج کا پاکستان ( بقول رچرڈز ہندوستان) اور لاہور انگریزوں کے جانے کے بعد کہاں کھڑے ہیں؟
جو شکوہ اب ہے، یہی ابتدا میں تھا امجدؔکریم تھا، مری کوشش میں انتہا رکھتا
