13 مئی، لاہور کے محسن الفریڈ کوپر وولنر کی سال گرہ

13 مئی : اورینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور کے مایہ ناز عالم، استاد اور محقق، الفرڈ کوپر وولنر (Alfred Cooper Woolner) کی سالگرہ دوستو، آج میری سال گرہ ہے لیکن میں 13 مئی کو، ایک سو اٹھہتر برس پہلے کے لاہور کی تہذیبی و ثقافتی زندگی کے علم بردار، الفرڈ کوپر وولنر (Alfred Cooper …

13 مئی : اورینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور کے مایہ ناز عالم، استاد اور محقق، الفرڈ کوپر وولنر (Alfred Cooper Woolner) کی سالگرہ

دوستو، آج میری سال گرہ ہے لیکن میں 13 مئی کو، ایک سو اٹھہتر برس پہلے کے لاہور کی تہذیبی و ثقافتی زندگی کے علم بردار، الفرڈ کوپر وولنر (Alfred Cooper Woolner) کی تاریخ پیدائش کے طور پر مناتا ہوں۔

ممکن نہیں آپ نے مال روڈ کی جنوبی سمت واقع، الفرڈ کوپر وولنر کا آٹھ فٹ نو انچ اونچا پُر شکوہ مجسمہ نہ دیکھا ہو۔ مجسمے کو رائل کالج آف آرٹس کے پروفیسر گلبرٹ لیڈورڈ نے محبت کے ہاتھوں سے بنایا اور اخلاص کے پانی سے گوندھا۔

وولنر 1903ء میں پچیس سال کی عمر میں اورینٹل کالج کے پرنسپل کے طور پر لاہور آیا اور 1936 میں ملیریا کے ناگہانی حملے سے میو ہسپتال کی تپ دق وارڈ میں انتقال کر گیا۔

وولنر کا سب سے بڑا کارنامہ آٹھ نو ہزار سنسکرت کے مخطوطوں پر مشتمل کتاب خانے کی جمع آوری ہے۔
یہ کتاب خانہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ملکیت ہے۔ وولنر اپنی تنخواہ (پانچ سو روپے ماہانہ) کا بڑا حصہ کتابوں اور نسخوں کی خریداری میں صرف کرتا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہندوستان کے دور دراز حصوں میں روانہ ہوتا۔ جنگلوں اور مندروں کو قیام گاہ بناتا اور رِشیوں، مُنیوں کے چرنوں میں بیٹھ کر پالی اور سنسکرت کی تعلیم میں وقت گزارتا۔ وہ رائل ایشیاٹک لائبریری آف انڈیا کا صدر بھی رہا۔

وولنر کو انگریزی، لاطینی اور رومانی زبانوں کے علاوہ، سنسکرت، پالی، چینی، فارسی، عربی، اطالوی، اور ہسپانوی زبان پر مہارت حاصل تھی۔

وولنر نے چھ کتابیں اور لاتعداد مقالات اپنی یادگار چھوڑے ہیں۔ لاہور میں اسے ’سیر کرنے والے بابو‘ کے نام سے یاد کیا جاتا۔ اس کے چہیتے شاگرد بنارسی داس کے لفظوں میں، وہ آدھی آدھی رات تک اپنی خوب صورت اور خواندہ و فہمیدہ بیوی، مَیری ایمیلی بلینڈ، کے ہمراہ، مال روڈ پر چہل قدمی کرتا اور چلتے چلتے، طالب علموں اور شائقین کو ویدوں اور پُرانوں کا فلسفہ پڑھاتا۔ وولنر کو رومی کی مثنوی معنوی کے مطالب پر بھی، گرفت حاصل تھی۔

وولنر نے 1925ء میں حکومت پنجاب سے ایک خطیر رقم منظور کروائی اور لاہور کی سر زمین پر پہلی بار سنسکرت زبان میں شکنتلا (کالی داس) ڈرامے کو عملی جامہ پہنایا۔ ڈرامہ دو دن تک چلتا رہا۔ ڈرامے کے اکثر کردار گورنمنٹ کالج لاہور کے ڈرامیٹک کلب سے تعلق رکھتے تھے۔
معروف اداکار امیتابھ بچن کی والدہ تیجی بچن نے بھی وولنر کا ذکر کیا ہے۔

وولنر کی شامیں گورنمنٹ کالج لاہور میں گزرتیں۔ وہ اور اس کی بیوی طلباء کے ساتھ وقت گزارتے اور نت نئی تجاویز دیتے۔ یونی ورسٹی کا وائس چانسلر ہونے کے باوجود اس نے ڈرامے اور آرٹ کی محبت میں طلباء کے ساتھ برابری کی سطح پر کئی اہم کردار ادا کیے۔ وہ شیکسپئر کے کردار میں رچ بس جانے کے حوالے سے محاورہ تھا۔

گورنمنٹ کالج کے تاریخی میگزین، راوی، کے صفحات وولنر کی علمی و ادبی سرگرمیوں کے گواہ ہیں۔

وہ اقبال کے استاد آرنلڈ کا گہرا دوست تھا۔ آرنلڈ ہی کی تجویز پر لاہور آیا اور لیک روڈ پر واقع آرنلڈ کی کوٹھی کی بالائی منزل پر قیام پزیر ہوا۔ وولنر کی یادداشتوں میں انارکلی اور مال روڈ کا ذکر ادبی پیرائے میں ملتا ہے۔

میں نے وولنر پر پانچ سات مضمون لکھے ہیں اور ان باتوں کو (اور اس کے علاوہ درجنوں نکات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔)

وولنر کی قبر لاہور میں جیل روڈ پر واقع گورا قبرستان میں ہے۔

وولنر کی آخری رات میو ہسپتال میں گزری۔ اس رات درجہ حرارت صفر تھا۔ آخری رات سے پہلے وہ بدھا کے حوالے سے ایک ہندی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھا۔

اس کی قبر پر اپنیشد کا اشلوک کھدا ہے۔

असतो मा सद्गमय ।
तमसो मा ज्योतिर्गमय ।
मृत्योर्मा अमृतं गमय ।

آستو ما سدگمئے
تمسو ما جیو ترگمئے
مرتیورما امرتن گمئے

‘ میری رہنمائی کر
فریب سے حقیقت کی طرف
اندھیرے سے اجالے کی جانب
فنا سے ابدیت کی اور ‘

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button