ستیش چوپڑا اور ان کے خاندان کی کہانی جو 14 اگست 1947ء کے ہنگامہ خیز دن انارکلی سے امرتسر کو روانہ ہوئے

ستیش چوپڑا (پ: 1942ء لاہور) کا نام پہلے پہل ڈان نیوز میں پڑھا۔ پرانے مضامین کے تفحّص میں ان کا ایک کالم ہاتھ آیا۔ کالم کے ساتھ ایک دیکھے بھالے مکان کا عکس بھی تھا۔ انارکلی تھانے کے مشرق میں، رسالہ بازار کے داخلی دروازے کے بائیں ہاتھ، دو منزلہ مکان۔ ہم دس سال اسی …

ستیش چوپڑا (پ: 1942ء لاہور) کا نام پہلے پہل ڈان نیوز میں پڑھا۔ پرانے مضامین کے تفحّص میں ان کا ایک کالم ہاتھ آیا۔ کالم کے ساتھ ایک دیکھے بھالے مکان کا عکس بھی تھا۔ انارکلی تھانے کے مشرق میں، رسالہ بازار کے داخلی دروازے کے بائیں ہاتھ، دو منزلہ مکان۔ ہم دس سال اسی کے سامنے سے گزر کر پردیسی ہوٹل میں کھانا کھاتے رہے۔

مکان چھوٹا ہے۔ مشکل سے چار پانچ مرلے لیکن کاری گری اور ہنر مندی پوری پوری جھلکتی ہے۔ بالائی منزل کی چوبی گیلری، سلسلہ وار غرفے اور نفیس چھجوں نے اسے جاذب نظر بنا رکھا ہے۔ داخلی دروازہ قدرے چھوٹا ہے۔ گلی سے اوپر کی جانب جانے والی تنگ سیڑھیاں اب بھی موجود ہیں۔ بیسویں صدی میں تنگ سیڑھیوں کا رواج عام تھا۔ ان پر قدم جمانے کی جگہ کم، لیکن اونچائی کے رخ چوڑائی زیادہ ہوتی ہے۔ زاویہ بھی ستر سے اوپر کا ہوتا ہے۔ شاید یہ طرز اس دور کے لوگوں کی صحت کو بھی ظاہر کرتا ہو۔ واللہ اعلم۔ بہ ہر صورت مکان سامنے کا تھا لہذا ستیش چوپڑا صاحب اور ان کی تحریروں میں زیادہ دل چسپی معلوم ہوئی۔ ان ہی دنوں مجھے پاکستان خصوصاً لاہور سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلا کاروں کی کھوج ہوئی۔ آنند بخشی، اس سلسلے کا پہلا نام تھا۔ بخشی صاحب کے پوٹھوہار سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تفاخر بھی ہوا۔ پوٹھوہار میری جائے پیدائش ہے۔ آنند بخشی، ہندوستانی ریڈیو اور اپنے عہد کے عظیم موسیقاروں کے ذکر سے متعلق گراں قدر تصنیف ہاتھ بھی لگی۔ ”ہندوستانی سینما کی بھولی بسری وِبُھوتیاں“۔ بوجھیے لیکھک کون نکلے: ستیش چوپڑا۔ میں نے پہلی فرصت میں کتاب پڑھی۔ مشکل سے ڈیڑھ سو صفحے کی ہو گی۔ لیکن بقامت کہتر باہمت بہتر کے مصداق محتویات شان دار ہیں۔ شدھ ہندی میں ہونے کے باوجود، اردو روانی کے ٹکڑوں نے لطف دیا اور نئے معلومات ہاتھ آئے۔ ستیش چوپڑا صاحب کی ای میل بھی ہاتھ آئی۔ بہت سے سوال پوچھے، جن کے جواب توقع سے بڑھ کر ملے۔ لاہور کی تاریخ، جغرافیہ، گورنمنٹ کالج، بوٹینیکل گارڈن، لاہور ریلوے سٹیشن، انارکلی، رسالہ بازار، اندرون، کرشن نگر اور بہت کچھ۔ موصوف ہر پھر کے اپنے گھر کو دیکھنے اور جاننے کی خواہش کا اظہار کرتے۔ پہلی مرتبہ مجھ پر وابستگی اور زمینی انسلاک کے معنی کھلے۔

لوگ ملتے ہیں تو گھر پوچھتے ہیں
تھا کوئی اپنا بھی گھر یاد آیا

بعد ازاں معلوم ہوا، ستیش چوپڑا صاحب کی کتاب انگریزی زبان کی پوشاک بھی پہن چکی ہے۔ کتاب کو راشٹریہ سمّان مل چکا ہے۔ چوپڑا صاحب کی خواہش تھی، کتاب کا اردو ترجمہ بھی کیا جائے۔ لیکن زبان زیادہ مفرس و معرّب نہ ہو۔ بول چال کے قریب اور قابل فہم ہو۔ سرحد کے دونوں طرف عام اردو بولنے والے سمجھ سکیں۔ ہندی سرٹیفیکیٹ کی تدریس کے دوران میں نے کتاب کا معتد بہ حصہ طلباء سے ترجمہ کروا لیا۔ لیکن چھاپنے کی سبیل کیسے اور کیوں کر ہو۔ ناشر چاہتے ہیں کہ ان کی مطبعوں کا طواف کیا جائے :

در ہائے فردوس وا بود امروز
از بی دماغی گفتیم فردا

چوپڑا صاحب سے تعلق کا ایک پَکھ گورنمنٹ کالج لاہور نکلا۔ موصوف کے والد (اور غالباً چچا) گورنمنٹ کالج کے گریجوئیٹ تھے۔ رشتے کے ایک ماموں ڈاکٹر بھی تھے۔ یہ ڈاکٹر صاحب لاہوری انگریزوں اور دیسی نوابوں کا ہاتھ پاؤں تھے۔ ولایت سے تخصیص کی ڈگری لائے تھے اور تشخیص میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

ستیش چوپڑا کی پیدائش اکتوبر 1942ء میں ہوئی۔ تقسیم کے وقت وہ پانچ برس کے تھے۔ پانچ برس کے بچے کی بساط کیا، البتہ حافظے کی تختیوں پر کئی منظروں کی جھلکیاں باقی رہ جاتی ہیں، جو زندگی بھر بھولے نہیں بھولتی۔ رسالہ بازار کا یہ مکان ہنوز ان کے خوابوں میں آتا ہے اور وہ ہٹیلے بچے کے طور پر تنگ سیڑھیاں اترتے چڑھتے ہیں اور ماتا پِتا کی جِھڑکیاں کھاتے ہیں۔ آس پاس مسجدوں کی اذانیں، مندروں کی گھنٹیوں، گردواروں کے گرنتھ پڑھنے کی آوازیں آتی ہیں۔ زمین و زماں بدل گئے لیکن دل وہی ہے۔ ستیش چوپڑا آج کل اپنی سوانح عمری پر کام کر رہے ہیں۔ دعا ہے جلد سماپت ہو تاکہ پرانے لاہور کا نقشہ دوبارا سے آنکھ میں جم سکے۔

تقسیم کے حوالے سے ان کے الم ناک قصے کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ 14 اگست 1947ء کے ہنگامہ خیز دن ہجرت کی۔
عاقل لوگ دو چار مہینے پہلے پدھار چکے تھے۔ جولائی 47ء کے بعد کا لاہور تصور میں لانا بھی مشکل ہے۔ 14 اگست 1947ء کو انارکلی، رسالہ بازار اور لاہور کی گھڑیاں کیسی تھیں۔ انھی سے سنیے۔ میں نے محض ترجمہ کیا ہے اور درد کو برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

”ہمارے گھر کی چھت، جو لاہور کے پرانی انارکلی میں رسالہ بازار کے دائیں طرف والے داخلی راستے پر واقع تھا، وہ جگہ تھی جہاں سے میں نے اگست 1947ء میں پورے شہر میں ہر طرف آگ لگی ہوئی دیکھی تھی۔ یہ آگ شاہ عالمی گیٹ سے شروع ہوئی تھی۔ یہ میری ابتدائی یادوں میں سے ایک ہے۔ انارکلی تھانہ ہمارے گھر سے تقریباً دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا اور ہمارے گھر کی چھت سے اس کا پورا صحن صاف نظر آتا تھا۔ کبھی کبھی زیرِ حراست لوگوں کی آہ و زاری کی آوازیں گھر میں بالکل واضح طور پر سنائی دیتی تھیں۔

اس واقعے کو گزرے ہوئے سات دہائیاں ہو چکی ہیں۔ جب پورے شہر میں بے رحمانہ قتل و غارت شروع ہوئی تو میرے والدین، میری دو بڑی بہنوں، میرے بڑے بھائی اور مجھے لاہور چھوڑنا پڑا۔ حیرت کی بات ہے، لاہور والے گھر کی یادیں آج تک میرے ذہن سے مٹ نہیں سکیں، حالاں کہ اس وقت میری عمر مشکل سے پانچ سال تھی۔ میری پیدائش اکتوبر 1942ء میں لاہور میں ہوئی تھی۔

14 اگست 1947ء کے دن ہمارے دفتر کے کام کے ساتھ ساتھ گھر کے کام میں مدد کرنے والے سیتا رام نے دو لوہے کے صندوق، حال ہی میں خریدا گیا فیرنٹی ریڈیو ریسیونگ سیٹ اور ایک سنگر سلائی مشین گھوڑے سے کھینچے جانے والے ٹانگے میں رکھ دیے تھے۔

یہی وہ تمام سامان تھا جو ہم اپنے ساتھ اس سفر میں لے جا سکتے تھے۔ ہمیں ایک ایسی سرحد پار کرنی تھی جس کا فیصلہ برطانوی عدالت کے سابق رکن اور سرحدی کمیشن کے چیئرمین سر سائرل ریڈکلف نے کیا تھا۔ اس سرحد کے نتیجے میں تقسیم ہوئی اور پھر قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوا، جو شاید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہ کاریوں میں سے ایک تھی۔

روانگی کے وقت میرے والد نے دو بھینسیں اور بیس روپے ہمارے ایک مسلمان دھوبی کرایہ دار کے حوالے کیے تھے۔ وہ ہمارے گھر کی نچلی منزل پر رہتا تھا اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ دوسرے بہت سے لاہوریوں کی طرح اسے بھی یہ غلط فہمی تھی کہ ہم جلد ہی واپس شہر آ جائیں گے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی، لیکن ہمیں اس وقت یہ احساس نہیں تھا کہ ہم اپنے بے حد عزیز لاہور کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔

جلد ہی ہم لاہور کے ڈی اے وی کالج (موجودہ اسلامیہ کالج سول لائن) میں قائم کیے گئے ایک مہاجر کیمپ میں پہنچ گئے۔ اگلی صبح ہمیں اور ہمارے سامان کو ایک فوجی ٹرک میں بٹھایا گیا تاکہ ہمیں تیسری درجے کے ریلوے ڈبے میں منتقل کیا جا سکے، جو اٹاری اسٹیشن جانے والا تھا۔ بھاپ کے انجن سے چلنے والی وہ ٹرین بہت زیادہ بھیڑ سے بھر گئی۔ یہاں تک کہ سینکڑوں مسافر ڈبوں کی چھتوں پر بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے لاہور اور اٹاری کے درمیان صرف تیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں آٹھ گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔ بھوکے اور پیاسے مسافروں کو آخرکار اٹاری اسٹیشن پر رضاکاروں نے کچھ کھانا دیا، جس میں روٹی، دال اور اچار شامل تھا۔

یہ ایک خوفناک منظر تھا۔ میری بیمار والدہ بے ہوش ہو گئیں، لیکن ایک گلاس پانی حاصل کرنا بھی ناممکن تھا۔ ڈبے کے باہر سے آنے والی لاشوں کی بدبو اور ڈبے کے اندر پھیلی ہوئی انتہائی ناگوار بدبو نے حالات کو اور بھی خراب کر دیا تھا۔ مجھے یہ ماننا پڑتا ہے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی میں وہ منظر اور وہ بدبو نہیں بھولا۔ وہ مناظر اور بدبوئیں آج بھی میری یادداشت میں بالکل تازہ ہیں۔ اس کے باوجود، اپنی پوری کوشش کے باوجود، میں اپنے ذہن پر نقش ہو جانے والی ان تصویروں کو مناسب الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔

اس کے بعد ٹرین کچھ دیر آگے چلی، پھر اچانک رک گئی۔ سب لوگوں کی حیرت کے لیے تمام مسافروں کو ٹرین سے اترنے کے لیے کہا گیا۔ ہر طرف ہنگامہ اور افراتفری تھی۔ کچھ لوگ رو رہے تھے اور کچھ صرف سسکیاں لے رہے تھے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے۔

صحت مند اور طاقتور لوگ اپنے بیگ، صندوق، بچوں اور بوڑھے خاندان کے افراد کے ساتھ ایک ہی وقت میں چیختے اور بھاگتے ہوئے ادھر اُدھر جا رہے تھے۔

چند گھنٹوں بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو فوجی ٹرکوں میں زبردستی بٹھایا گیا تاکہ انہیں آگے امرتسر کے کچھ مہاجر کیمپوں میں لے جایا جا سکے۔

خالی ہونے والے ٹرین کے ڈبے جلد ہی مشرقی پنجاب سے آنے والے مسلمانوں سے بھر گئے، جو لاہور جانے کے سفر پُر تھے۔ ان کی حالت بھی ہماری طرح خراب تھی۔

امرتسر جاتے ہوئے ہمیں سڑک کے دونوں طرف خوفناک مناظر نظر آئے۔ لوگوں کے قافلے دونوں سمتوں میں جا رہے تھے۔ کچھ لوگ پیدل تھے، کچھ بیل گاڑیوں میں، کچھ لاریوں اور دوسری گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے۔ بوڑھے اور کمزور لوگوں کو کم عمر اور صحت مند مرد اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جا رہے تھے۔

ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی افراتفری کی وجہ سے ہمارے ٹرک تقریباً رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ چنانچہ ہمیں امرتسر پہنچنے میں تقریباً چھ گھنٹے لگ گئے۔ مسافروں کو مختلف اسکولوں میں اتارا گیا، جنہیں مہاجر کیمپوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور جو پہلے ہی بہت زیادہ بھیڑ سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک دن کیمپ میں رہنے کے بعد ہمارا خاندان کسی طرح ایک دور کے رشتہ دار کے گھر پہنچا، جہاں ہم تقریباً دس دن رہے۔

اب میں آپ کے ساتھ امرتسر کی اپنی بچپن کی یادوں میں سے ایک خاص اور قیمتی یاد ساجھی کرتا ہوں۔ جس گھر میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے، وہاں کی ایک کھڑکی سے میں نے ایک چھوٹی پٹڑی پر چلنے والی گول ریلوے گاڑی دیکھی۔ یہ ٹرین پورے شہر کا کچرا اور انسانی فضلہ اٹھا کر ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال ہوتی تھی، کیونکہ ان دنوں امرتسر میں نکاسیٔ آب کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔

چوں کہ میرے والد لاہور میں حصص کے بروکر تھے اور امرتسر میں کوئی اسٹاک ایکسچینج نہیں تھی، اس لیے انہوں نے دہلی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہم دہلی جانے والی ٹرین میں سوار ہو گئے۔ تقریباً چار سو پچاس کلومیٹر کا یہ خوفناک سفر دہلی پہنچنے میں اڑتالیس گھنٹے سے بھی زیادہ لے گیا۔

ٹرین کے ڈبے بھاپ کے انجن سے چل رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ انجن دمے یا سینے کی کسی بیماری میں مبتلا ہو، کیونکہ اس کی رفتار کبھی بھی بیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں ہوئی۔

مختلف مقامات پر تھوڑی تھوڑی دیر رکنے کے بعد ٹرین انبالہ کے اسٹیشن پر جا کر رک گئی۔ یہ اسٹیشن مکھیوں اور مچھروں سے بھرا ہوا تھا۔ ساتھ والے پلیٹ فارم پر کھڑی ایک ٹرین سے انتہائی خوفناک بدبو آ رہی تھی۔ وہ بدبو ناقابلِ برداشت تھی۔

ہمارے لیے پانی لانے کے لیے جو ساتھی مسافر ٹرین سے نیچے اترے، انہوں نے ہمیں بتایا کہ قریب کھڑی ٹرین کے تمام ڈبے لاشوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اس ٹرین کو مسلمانوں کو دہلی سے لاہور لے جانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

انبالہ اسٹیشن سے روانہ ہونے کے بعد ہماری ٹرین، جس میں ’زندہ انسانی جسم‘ سوار تھے، دہلی پہنچنے میں تقریباً اٹھارہ گھنٹے لے گئی۔“

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button