یہ گاڑی مری راہ میں بے ڈول اَڑی ہے (لاہور کا پہلا سائیکل شیڈ: 1912ء)

ڈاکٹر ارسلان راٹھور   بہت دن ہوئے، میں نے لاہور کے پہلے موٹر سائیکل پر ایک تحریر لکھی تھی۔ یہ قصہ 1932ء کا ہے۔ آج کی داستان، اس قصے سے بیس برس پہلے یعنی 1912ء کی ہے۔ وہ موٹر سائیکل کی بَپتا تھی، یہ بائی سائیکل کی رام لیلا ہے۔ دنیا کی پہلی سائیکل، جسے …
ڈاکٹر ارسلان راٹھور

 

بہت دن ہوئے، میں نے لاہور کے پہلے موٹر سائیکل پر ایک تحریر لکھی تھی۔ یہ قصہ 1932ء کا ہے۔ آج کی داستان، اس قصے سے بیس برس پہلے یعنی 1912ء کی ہے۔ وہ موٹر سائیکل کی بَپتا تھی، یہ بائی سائیکل کی رام لیلا ہے۔ دنیا کی پہلی سائیکل، جسے ایرانی، دو چرخہ کہتے ہیں، 1817ء میں المانوی سرمایہ کار
کارل وون ڈریس (Karl von Drais) نے ایجاد کی۔ اسی مناسبت سے اسے ڈریسین کہا جاتا ہے۔ آج عجیب معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے : اس سائیکل کے پیڈل نہ تھے۔ سائیکل سوار اپنے زورِ زانو اور قوتِ داخلی سے زمین پر پاؤں مارتا تھا۔ زمین سے چنگاریاں اٹھتیں، دھول اُڑتی، شور مچتا۔ غرض سائیکل چلانا اچھا خاصا تماشا تھا۔ افسوس سید ضمیر جعفری نے یہ سائیکل نہ دیکھی ورنہ جھٹ سے مصرع موزوں کرتے : یہ چلتی ہے تو دو طرفہ ندامت ساتھ چلتی ہے۔

میں نے مصرعہ برائے گفتن کی ذیل میں لکھا ہے، ورنہ سائیکل سوار، جہاز سوار سے کم نہ تھا کہ سائکل اپنی ہوتی تھی اور جہاز کسی کا۔ ڈریسین کے پہیوں کا حجم خاصا بڑا ہوتا تھا۔ دور سے آدمی دو مدور ڈھلوانوں کے درمیان پھنسا ہوا معلوم ہوتا۔ سائیکل کاہے کو، آج کا رکشہ سمجھیے۔ پطرس بخاری، ڈریسین کو دیکھتے تو خدا جانے اپنے مضمون میں کیسی کیسی جولانیاں دکھاتے! یہ ضرور ہے کہ یہ سائیکل ڈھلوان سے نیچے نہ آتی بل کہ قلابازیاں کھاتی۔

پہیے کو انسانی تہذیب میں مرکزی دریافت مانا جاتا ہے۔ سائیکل اسی ایجاد کی وسعت کے طور پر شخصی آزادی کا پہلا اور تیز تَر تلازمہ ہے۔ امریکی شیکسپیئر، مارک ٹوین نے کہا ہے :
Get a bicycle. You will not regret it, if you live

سائیکل کی اہمیت جاننا ہو تو آئن سٹائن کو پڑھیے۔ دنیا E=mc² کی دریافت پر سر دُھنتی ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں، آئن سٹائن کو یہ مساوات سائیکل چلاتے سوجھی. افسوس آئن سٹائن کا دو چرخہ محفوظ نہ رہ سکا۔ اے بسا آرزوئے خاک شدہ!

آئن سٹائن کی سائیکل باقی نہ رہنے کا غم تو غلط نہیں ہو سکتا البتہ آپ کو آئن سٹائن کی مساوات (1905ء) کے محض سات سال بعد (1912ء) لاہور میں بننے والے غالباً ابتدائی سائیکل شیڈ کی کہانی سنائی جا سکتی ہے۔ شیڈ کی اہمیت آئن سٹائن کی سائیکل کے برابر نہ ہو، ہے تو سہی :

خوشی جہاں میں بہت ہے ہمارے گھر نہ سہی
ملول کیوں رہیں دنیا کے انتظام سے ہم

لاہور کا پہلا سائیکل شیڈ غالباً گورنمنٹ کالج میں بنایا گیا۔ تھوڑی دیر کے لیے کلپنا کی آنکھ کو کھولیے اور گول باغ کے شمال میں ایستادہ آسمان کی خبریں لاتے اونچے مینار پر غور کیجیے۔ شیڈ بنانے کے معنی یہ ہوئے کہ کالج میں سائیکلوں کی تعداد قابل لحاظ ہو چکی تھی۔ ان دنوں کالج کی چار دیواری نہ تھی۔ پورب، پچھم، اُتّر، دکھن، کہیں سے داخل ہو جائیے : تُو صاحب خانۂ آخر چرا دزدانہ می آئی!

سائیکل سوار جہاں چاہتے سائیکل لگاتے۔ سادہ دن تھے، بد گمانیاں کم ہوتی تھیں۔ لیکن جن غریبوں کو ساق ساق مٹی میں چلنا پڑتا، سائیکلیں دیکھ کر ان کے سینے پر سانپ لوٹتا۔ اس کا نتیجہ وہی ہوا، جو ہمارے جد امجد جناب صفی اللہ کے دونوں بیٹوں، ہابیل و قابیل کا ہوا۔ حسد کا بیج برگ و بار لانے لگا۔ سائیکل کمانا مشکل تھا، چرانا آسان۔ لہذا سائیکلیں چوری ہونے لگی۔ ایک نہیں دو نہیں، کئی۔ سائیکل چوری ہونے کا معنی تھا، دیوالیہ نکل جانا۔ سائیکل کا مالک بوکھلایا ہوا کچہری، موہن لال بازار، گول باغ، آئس کریم فیکٹری اور سینٹ ہال کے چکر لگاتا۔ ایسی حالت میں شعروں کے سوا کوئی پرسان حال نہ ہوتا:

اب احتیاط کی دیوار کیا اٹھاتے ہو
جو چور دل میں چھپا تھا وہ کام کر بھی گیا

حالات بگڑے تو کالج کی انتظامیہ کو سائیکل شیڈ کا خیال آیا۔ ایک آدمی مختص کرنے کا منصوبہ بنا۔ جو پورا دن سائیکلوں پر نگاہ رکھے اور گنتی کرتا رہے۔ اس غریب کی ہمت کو داد دیجیے! 1912ء کے راوی میں نئے سائیکل شیڈ کی دل چسپ اور قدرے مزاحیہ روداد ملتی ہے۔ خدا اگلوں کی روحوں کو شاد رکھے کہ انھوں نے سائیکل کے نام اور ماڈل تک محفوظ کر لیے تاکہ آنے والے سماجی مورخین کے کام آ سکیں۔ ان دنوں جی سی میں ریلئے بائی سائیکل کمپنی (Raleigh Bicycle Company) کی سائیکلوں کا راج تھا۔ اس کمپنی نے 1885ء میں نوٹنگٹن، برطانیہ میں سائیکلیں بنانا شروع کیں۔ یہ سائیکلیں انیسویں صدی کی آخری دہائی میں ہندوستان پہنچیں اور بمبئی سے ہوتی ہوئی لاہور کی سڑکوں کی زینت بن گئیں۔ سوچیے لاہوریوں کے لیے یہ سواری کیسی تعجب انگیز اور دل چسپ ہو گی۔ تام جھام، ٹم ٹم، فینس، تخت ہوائی، ہوا دار، پالکی، نالکی، گھوڑا، ٹٹو، رتھ اور بیل گاڑیوں پر سفر کرنے والے لوگ ایک دم سے آزاد اور تیز ہو گئے۔ یاد رہے، ان دنوں لاہور میں سائیکلوں کی تعداد سو دو سو سے بڑھ کر نہ تھی۔ سائکل چلانا بھی عذاب سے کم نہ تھا۔ کوئی استاد نہیں، آشنا نہیں۔ ہاتھ پاؤں ماریے اور خود ہی سیکھیے۔ رومی نے کیا عمدہ بات کہی ہے:

چہ استادان کہ من شہمات کردم
چہ شاگردان کہ من استاد کردم

(میں نے کتنے ہی استادوں کو مات دی ہے اور کتنے ہی شاگردوں کو استادی کے منصب پر فائز کر دیا ہے۔)

پہلی مرتبہ سائیکل چلانے کی مصیبتوں کا اندازہ کرنا ہو تو مرزا ہادی رسوا (مصنفِ امراؤ جان ادا) کے خطوط پڑھیے۔ رسوا نے پہلی سائیکل چلائی اور ہنسلی کی ہڈی گنوائی۔ اہل لکھنؤ کی وضع داریاں۔ ٹوٹی ہوئی ہڈی کا درد زور کرتا رہا لیکن مرزا نے سائیکل چلانا نہیں چھوڑی۔ گھر پہنچے اور بے حال ہو گئے۔

گورنمنٹ کالج کا سائیکل شیڈ کہاں واقع تھا۔ اس سوال کا جواب ہنوز معمہ ہے۔ افسوس کہ راوی میں اس کے بارے میں کوئی نکتہ نہیں دیا گیا۔ قیاس کہتا ہے یہ جی سی کے پہلے واٹر ہیڈز کے قریب ہو گا۔ یاد رہے، گورنمنٹ کالج کے واٹر ہیڈز موجودہ گول باغ کی (ناصر باغ) کے مقام پر واقع تھے۔ انیس سو تیس کے دہائی کے لوگوں نے کالج داخلے کا یہی راستہ بتایا ہے۔ بعید ہے کہ شیڈ داخلی راستے سے دور ہو۔

سائیکل شیڈ کی سہولت مفت نہ تھی۔ پارکنگ کے دام وصول کیے جاتے تھے۔ اتنے کہ تحریر میں اسے طلباء کی جیب پر بوجھ سے منسوب کیا گیا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے، آج کے زمانے کے برخلاف سائیکل شیڈ کو خاصی محنت اور مہارت سے بنایا گیا تھا۔ اس کی چھت چوبی اور محراب دار تھی۔ مزید یہ کہ شیڈ کی چھت کے محراب کو جی سی کی مرکزی گوتھک عمارت کے محرابوں کے ڈیزائن پر بنایا گیا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے، اس دور میں سائیکل شیڈ تک میں ہنر مندی کا مظاہرہ کس قدر ضروری خیال کیا جاتا تھا۔

راوی کی تحریر میں سائیکلوں کی حفاظت پر متعین شخص کے حلیے کا بھی ذکر موجود ہے، کس طرح اس کے ایک ہاتھ میں سائیکلوں کو پونجھنے کا کپڑا اور دوسرے میں پمپ ہوتا تھا۔ پورا دن سائیکلوں کو چمکانا اس کا اعزاز تھا۔ یہ تفصیلات پڑھتے ہوئے مجھے فوری طور پر مجید امجد کی شہرہ آفاق نظم، مقبرہ جہانگیر، کے دو شعر یاد آ گئے:

کھردرے ، میلے ، پھٹے کپڑوں میں بوڑھے مالی
یہ چمن بند، جو گزرے ہوئے سلطانوں کی
ہڈیاں سینچ کے پھلواڑیاں مہکاتے ہیں
گھاس کٹتی ہے کہ دن ان کے کٹے جاتے ہیں

محافظ کی موجودگی میں سائیکل چرانے والوں کا کاروبار مندا ہو گیا تھا۔ وہ ترتیب سے لگی سائیکلوں کے شیڈ کو ایسے خزانے کے طور پر دیکھتے، جس پر بڑا سا کالا ناگ پھن پھیلائے بیٹھا ہو۔ مضمون کی چند دل چسپ سطور ملاحظہ ہوں:

”رشک کے مارے لوگ چوری چھپے شیڈ کے ایک سرے سے دوسرے تک جاتے ہیں۔ ان کی ایک نظر سائیکلوں پر دوسری محافظ پر ہوتی ہے۔ رال ٹپکتی ہے۔ سائیکل کیوں کر چرائی جائے! چمکتی ہوئی Raleigh سائیکلیں، کیسی نعمت ہیں۔ مال پر دوڑائیے اور رفع چکر ہو جائیے۔“

راوی کے مضمون نگار کا کہنا ہے، اب سائیکلیں چوری کرنے لیے اولیور ٹوئسٹ کے مشہور چور استاد چارلی بیٹس جیسی مہارت درکار ہے۔ ڈکنز کا شہکار چور، بیٹس کون تھا، یہ جاننے کے لیے ہمارے مضمون کے بعد آلیور ٹوئسٹ اٹھائیے اور محوِ مطالعہ ہو جائیے۔

 

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button