کدار ناتھ کھوسلہ کا المیہ اور غلام عباس کا ناولٹ، جزیرۂ سخنوراں
کچھ روز پہلے پرانے راوی کے گھاٹ پر تھا۔ تا دیر موجوں کو الٹتا پلٹتا رہا۔ گو لہریں سوکھ گئیں ہیں لیکن سرچشمے ابھی تَر ہیں۔ موتی اور صدف نہ سہی، سنگوارے کیا کم ہیں۔ گئے دنوں میں پانی چڑھ کر آتا تھا اور ملاحوں کے بازوؤں میں خون بھرتا تھا۔ ہاتھ میں چپّو تھامے، محنت کی دھوپ میں سنولائے رواں دواں مانجھی۔ انھیں کیا خبر تھی، موجیں مورخ ہیں۔ خود ڈھل جاتی ہیں، نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ کیسے کیسے لوگ آئے اور ڈھل گئے۔
کوئی تاریخ بنے اور نہ زمانہ ہوئے لوگ
ہائے کیا لوگ تھے اور کیسے فسانہ ہوئے لوگ
تاک میں گردشِ دوراں تھی نجانے کب سے
تیری محفل سے نکلتے ہی نشانہ ہوئے لوگ
راوی جس کا ذکر لیے بیٹھا ہوں، رسالہ ”راوی“ ہے۔ موجیں صفحات ہیں اور مانجھی لکھاری۔ راوی 1906ء میں پھوٹا۔ ریتی اس کی گورنمنٹ کالج کا میدان بنا، ناخدا انگریز تھے اور سوار، لاہوری ثمََّ ہندوستانی۔ راوی سال میں کئی بار چھپتا، گاہے تین بار گاہے چار بار۔ کالج کی خبروں کے علاوہ لاہور بھر کی خبر ملتی۔ گویا اخبارِ لاہور تھا۔ پڑھیے اور گزرے دنوں کی دیوار میں نقب لگائیں۔
1913 کے راوی پڑھ رہا تھا۔ جنگ سے پہلے کا ہندوستان۔ طوفان سے پہلے کی خاموشی۔ ایک لڑکے کی تحریریں بار بار نظر سے گزریں۔ نام لالہ کدار ناتھ کھوسلہ۔ نام بڑا لیکن درجہ اول۔ فرسٹ ایئر، سیکشن بی۔ انگریزی شستہ، لہجہ متین۔ اپریل 1913ء کے شمارے میں ایک مضمون بہ عنوان : The Valley of Kashmir نظر سے گزرا۔ پسند آیا۔ آخر میں too be continued لکھا تھا۔ قسط وار تھا، کتنی قسطیں آنی تھیں، علم نہیں ہو سکا۔ مضمون کا آغاز عرفی کے شعر سے ہوتا ہے:
ہر سوختہ جانی کہ بہ کشمیر در آید
گر مرغِ کباب است کہ با بال و پر آید
(جو سوختہ جاں بھی کشمیر میں داخل ہوتا ہے، اگر مرغِ کباب بھی ہو تو بال و پر سے بھر جاتا ہے)
کھوسلہ صاحب کو داد دی اور آگے بڑھ گیا۔ مئی 1913ء کے شمارے کے کئی صفحات پرنسپل کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ کالج اور متحدہ پنجاب کے کالجوں کے متعلق معلومات کا انبار ہے۔ اس حصے سے تیزی سے گزرا۔ کھوسلہ صاحب کا نام نظر سے گزرتا رہا۔ اتنا معلوم ہوا، جناب لکھاری ہونے کے حوالے پیراک بھی ہیں۔ لفظوں کے علاوہ سطحِ آب پر بھی ڈوبتے ابھرتے ہیں۔ دوسروں سے داد پاتے ہیں اور سونے چاندی کے سکّوں (Medals) میں تُل جاتے ہیں۔
1913ء کی خبروں میں یہ خبر اہم رہی کہ کالج میں نہانے کے تالاب کے کنارے : Chaise Lounge, Floating Beds
اور Springboards لگائے گئے تھے۔ کیسی نئی بات ہے! ہمیں یہ چیزیں ہنوز دیکھنی نصیب نہیں ہوئیں۔ بہ ہر صورت، اس قصے کے دائیں بائیں بھی کھوسلہ کا نام آتا رہا۔ مئی کے شمارے میں The Valley of Kashmir کی دوسری قسط چھپی۔ دوسری قسط کا آغاز بھی فارسی شعر سے ہوتا ہے۔ شعر معروف ہے :
اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمین است و ہمین است و ہمین است
نیچے بار دگر، to be continued لکھا ہوا پایا۔
مئی کا نمبر ختم ہونے کو آیا۔ چھٹیاں ہونے کو تھیں۔ اسی شمارے کے آخری صفحے پر ایک نوٹ نے متوجہ کیا۔ تین چار سطریں۔ لیکن عنوان دل چسپ : Wanted۔ مجھے لگا، شاید کوئی مذاق ہو۔ آپ بھی پڑھ لیجیے:
WANTED.
Wanted a companion to accompany me to Kashmir on foot. Must be active and energetic and able to walk at least a yard in ten hours. Should be prepared to carry his luggage where coolies are not available. Boarding and lodging free during the journey. Apply sharp to the undersigned.
KIDAR NATH KHOSLA
معاً غلام عباس کا ناولٹ نما افسانہ، جزیرہ سخنوراں یاد آیا۔ جس کا ہیرو اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر بحر ہند کے سفر پر نکلنے کی ٹھانتا ہے۔ روانگی سے پہلے اسے ایک بیوہ کا خط ملتا ہے، خط میں کیا ہے، خود پڑھیے:
”میں نے ابھی ابھی اخبار میں آپ کا آرٹیکل پڑھا۔ اپ نے جو اراده ظاہر کیا ھے، گویا میرے منہ سے بات چھین لی ھے۔ میں ہمیشہ سے سمندر کی پرستار رہی ہوں۔ شہر کا شور و شغب، سڑکوں کے تارکول کی بو، اور گرد و غبار میرے لئے سوہان روح ھے اور سمندر . . . آمدم برسر مطلب۔ میں ایک بیوه ہوں، کم عمر، بفضل خدا خوش حال اور مطلقاً آزاد و خود مختار۔
میری دلی آرزو ہے کہ اس سفر میں آنجناب کا ساتھ دوں۔ میری حیثیت محض ایک ہمسفر کی ہو گی اور بس۔ میرا خیال ہے کہ یہ کوئی دشوار امر نہیں۔ اخراجات کے متعلق یہ عرض ہے کہ کشتی اور سامان سفر پر جو کچھ خرچ آئے گا، اس میں میں اور آپ برابر کے ساجھی ھوں گے، میرے آپ کے ہمراه چلنے میں کسی قباحت کا اندیشہ نہیں۔ میں دنیا میں بالكل تنہا ہوں۔ میرے بارے میں کوئی آپ سے بازپرس نہ کرے گا۔۔۔“
ویسے تو غلام عباس نے اس افسانے کا پلاٹ فرانسیسی ادیب آندرے موروا کے ایک طنز سے لیا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے، نوجوان کھوسلہ کے بھیتر یہ خواہش پہلے جاگی تھی۔ ویسے بھی کدار ناتھ نے راوی میں جب یہ اشتہار لکھا، غلام عباس پالنے میں ہوں گے۔ ہونہار بننے کی منزلیں راہ دیکھتی ہوں گی۔ (غلام عباس کی پیدائش 1909ء ہے)
میں نے اشتہار ہمسر کو سنایا اور اسے ایک مہذب خواہش پر مشتمل ظریفانہ شذرہ سمجھ کر آگے بڑھ گیا۔ مئی 1913ء کے بعد کا نمبر اکتوبر 1913ء کا ہے۔ تین چار ماہ کالج بند رہا۔ اکتوبر کے نمبر کے دوسرے صفحے پر، انگریزی میں وفیات (Obituaries) کا عنوان ہے۔ بہت سے لوگوں کے نِدھن کی خبر ہے۔ تیسرے پیراگراف کو پڑھ کر ٹھٹھک گیا :
Lala Kidar Nath. Khosla, a student of the 2nd year class, who met his death, under suspicious circumstances, from drowning in the Jhelum. He was a frequent contributor to the Ravi.
جہلم سے میرا دماغ فوراً کشمیر گیا۔
وہی کشمیر جس پر کھوسلہ نے اپریل اور مئی کے شماروں میں دو قسطوں پر مشتمل ادھورا مضمون لکھا تھا!
ہو سکتا ہے کدار ناتھ کا علاقہ بھی کشمیر ہو۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے، وہ محض کشمیر کی سیر کو نکلا ہو اور محض ایک صفحہ پہلے کے راوی کے آخری صفحے کا اشتہار مذاق نہ ہو! (مئی اور اکتوبر 1913ء کے راوی ایک ہی جلد میں بندھے ہیں)۔ ظاہر ہے جہلم کے سَوتے جموں کشمیر سے اٹھہتر کلومیڑ کے فاصلے پر ویری ناگ سے پھوٹتے ہیں۔ ویری ناگ نامی چشمے کے چاروں اطراف مغل عہد کے باغات ہیں جن کی طرز سیڑھی نما ہے۔ یہیں سے پھوٹنے والا پانی آگے چل کر دریائے جہلم کی شکل اختیار کرتا ہے۔ انگریز دور میں آغاز کے حصے کو بھی جہلم ہی کہا جاتا تھا۔ کشمیری شاعر افتخار مغل مرحوم کا شعر ہے :
چل پڑی جہلم کنارے پھر سے آزادی کی بات
جب کوئی لاشہ کنارے آ لگا بارش کے بعد
اگر یہ سچ بھی ہے تو ایک تمغہ یافتہ پیراک کا ڈوبنے کیسا حسرت ناک ہے!
پھر under suspicious circumstances کے الفاظ! مئی 1913ء اور اکتوبر 1913ء کے درمیان چار مہینوں کا فیصلہ ہے۔ لیکن میرے لیے، یہ قصہ صرف اگلا صفحہ پلٹنے جیسا تھا۔ ایک پنّے پر پیراک داد تحسین حاصل کر رہا ہے اور اگلے پر بے رحم موجوں کے حوالے ہو جاتا ہے۔ اللہ اللہ!
ندیاں پار کرانے والے ڈوب گئے
چپو تیز چلانے والے ڈوب گئے
ہم جھیلوں پر اسی بہانے جاتے تھے
آخر ڈوبنے جانے والے ڈوب گئے!
کدار ناتھ کھوسلہ کا ذکر پڑھ کر جی چاہا اس سیاح لیکن گم نام نوجوان پر کچھ لکھوں۔ اس کا درد محسوس ہوا اور ایک بات سمجھ میں آئی۔ مطلق عدم کوئی شے نہیں، ہم کہیں نہ کہیں زندہ رہتے ہیں۔ لوک میں نہیں تو پرلوک میں، حال میں نہیں تو تاریخ میں۔ بے نیاز ہو کر کام کرتے رہنا چاہیے، آپ کا درد مند ضرور پیدا ہوتا ہے، آج نہیں تو کل، یہاں نہیں تو وہاں!
تو اگر پاس نہیں ہے کہیں موجود تو ہے
