کھیرے کی پھانک اور مصحفی کا شعر
معروف ہے، جب عالمی شہرت یافتہ شاعر پابلو نیرودا نے 1945ء میں اپنی شہرہ آفاق نظم ماچو پچو کی بلندیاں (اس نظم کا اردو ترجمہ جناب تبسم کاشمیری نے کیا ہے) لکھ لی اور نوبل انعام کے حق دار ٹھہرے تو ان کا اگلا ہدف فطرت کی چھوٹی، کم توجہ اور معمولی چیزوں کی تقلیب (Transformation) ٹھہرا۔ رومانوی میدان میں پہلے سے چوبیں گاڑی جا چکی تھیں۔ یہ نیا کام شدتِ مشق کے علاوہ بدیہی استادی کا متقاضی تھا۔ ظاہر ہے، روزمرہ کی بھولی بسری اور غیر شاعرانہ چیزوں کو شعر بنانے کے لیے عبقری قوت اور قاموسی زبان درکار ہوتی ہے۔ نیرودا اس چنوتی سے بخوبی عہدہ برا ہوئے۔ ایک نظم ملاحظہ ہو، جس کا عنوان Ode to the Onion ہے :
You make us cry without hurting us. I have praised everything that exists, but to me, onion, you are more beautiful than a bird.
میں اس کا اردو ترجمہ میں کیا ہی کر سکتا ہوں، لیکن زبان کا ذائقہ بدلنے میں کیا حرج ہے:
پیاز تو نے مجھے رلا دیا، شکستہ کیے بغیر، میں نے ہر موجود چیز کی ستائش کی ہے، لیکن میرے لیے، اے پیاز تو کسی پرندے سے بھی لطیف ہے!
اس نوع کی نظمیں نیرودا کے کلام میں عام ہیں۔ ہمارا عالم یہ ہے کہ بے چارے نظیر کی ککڑی اور سنگترے پر مبنی منظومات پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ نظیر کی بھد اڑانے سے ان کا تو خیر کیا بگڑا، ہماری کئی منزلیں سر ہونے سے رہ گئیں۔
نیرودا کی نظم مجھے مصحفی کے دیوان ہشتم کی سیر کے دوران، ایک مختصر غزل پڑھتے ہوئے یاد آئی۔ چھ شعروں پر مشتمل اس غیر مردف غزل کا قافیہ صنعت تکرار کا نمونہ ہے۔ مصحفی کے کلام کو دیکھتے ہوئے، اس غزل کا شمار ان کی مختصر غزلوں میں ہوتا ہے۔ اول قافیہ دشوار، دوم تکرار کی پابندی۔ شعر زمینی حقیقت (Earthiness) سے مملو ہونے کے باوجود سہولت سے معنی تک رسائی نہیں دیتے۔ ظاہر ہے یہ عجزِ کلام کا نتیجہ نہیں۔ کلاسیکی شعراء عجز کلام کو بڑا عیب جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے، میر انیس نے بحر کے اشعار کو عجزِ کلام کا نمونہ ہونے کی بنا پر، غرائب قرار دیا تھا۔
مصحفی کے ہاں اصل دِقّت لغت کی ہے۔ وہ میر کے بعد ہمارے سب سے چونچال (Girthy) شاعر ہیں۔ روزمرہ کی چیزوں سے ان کا شغف اتنا بڑھا ہوا ہے کہ ان کے کلام سے ہند اسلامی دنیا کی ثقافتی فرہنگ مرتب کی جا سکتی ہے۔ میر کی لفظیات جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر جمع کی جا سکتی ہیں (اگرچہ یہ روایت برائے گفتن ہے)، لیکن امروہہ کی شاہ ولایت کی درگاہ کا مجاور کون بنے۔ امروہہ، دلی، لکھنو، غازی آبادی اور گھاٹ گھاٹ کے پانی نے مصحفی کے جوہر کو ایسا روغنی بنا دیا ہے کہ معنی پھسل پھسل جاتا ہے۔ آزاد مرحوم نے اسی کو مصحفی کے امروہہ پن سے منسوب کیا ہے۔ (اس جملے نے مصحفی کو بہت نقصان پہنچایا۔ آزاد کے معنی غالباً ان کے سکہ بند اور شاہجان آباد کی اردو سے منسلک نہ ہونے کے تھے۔) مصحفی کے لفظوں کا پورب پچھم متعین کرنا سہل نہیں۔ نور الحسن نقوی کی کوششیں لائق ستائش ہیں لیکن تا بہ کے؟ ایک آدمی کتنا کرے اور کہاں تک کرے۔ یہ کام اداروں کا ہے، جن میں تازہ خون اور تر دماغی کی آمیزش موجود ہو۔ ہمارے لغات نے علاقائی زبانوں سے جو غفلت برتی ہے، وہ ڈھکی چھپی نہیں۔ شعراء کے الگ سے فرہنگ تیار نہیں ہو سکے۔ چند ایک کوششیں ہوئی ہیں لیکن کم محیط۔ پھر مصحفی کو ہمیشہ دوسرے درجے کا شاعر کہہ کر سمیٹ دیا جاتا ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی ہماہمی ان کے کلام سے مترشح ہو تو ہو، اردو نقادوں نے ان کا جو مقام طے کر دیا ہے، اس سے انحراف کون کرے! خاکساری اپنی کام آئی بہت!
بہر صورت بات کا آغاز مصحفی کے مطلع سے ہوتا ہے، جس میں کھیرے جیسی گھریلو، اَن گھڑ اور سوقیانہ تشبیہ برتنے نے مجھے اکسایا کہ شعر پر کچھ بات کروں :
کیا فائدہ جو زخموں کو اب رکھیے ٹانک ٹانک
کھیرے کی طرح دل ہی ہوا جب کہ پھانک پھانک

ظاہر ہے شعر بڑا نہیں ہے، کچھ زیادہ اچھا بھی نہیں۔ لیکن پہلے مصرعے کی دلی و ذاتی اور دوسرے مصرعے کی عملی و مشاہداتی فضا کا امتیاز اتنا چونکا دینے والا ہے کہ اس پر بات نہ کرنا زیادتی ہے۔ میرے علم میں کلاسیکی غزل میں کسی مہم جو نے کھیرے کو اس سنجیدگی اور المناکی سے نہیں برتا۔ رومی کا ایک شعر البتہ حافظے میں ہے:
تا کہ از زہد و تقزز سخن آغاز کند
سر و گردن بتراشد چو کدو یا چو خیار
(تاکہ وہ زہد اور نفرت کی بات کا آغاز کرے، اپنے سر اور گردن کو کدو اور کھیرے کی طرح صفا چٹ کر لیتا ہے)
لیکن رومی نے اگر کدو اور کھیرے کا ذکر بھی کیا ہے تو ایسی بڑی بات نہیں۔ ان سے پہلے سعدی اور فارسی کی روایت میں ایک سے ایک بڑے شاعر نے دیکھی بھالی دنیا کو برتا ہے۔ البتہ کدو اور کھیرے کو منڈھے ہوئے سر سے تشبیہ دینا مشاہدے کی ندرت ضرور ہے۔
مصحفی کے شعر میں زخموں کے ٹانکوں کو کھیرے کی پھانکوں سے ملانا سامنے کا مال معلوم ہونے کے باوجود عام شاعر کے بس کا روگ نہیں (جرات مندی مستزاد). گہرے زخم کے چہار اطراف یا کنارے ہوتے ہیں اور کھیرے کی بھی عموماً چار پھانکیں بنائی جاتی ہیں۔ اگر زخم کو زخمِ دل مان لیا جائے (جس میں کوئی حرج نہیں) تو پھانک یا چہار پھانک کے الفاظ مزید دل چسپی پر محمول ہوتے ہے۔ میری گفت گو سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں خواہی نخواہی مصحفی کے شعر سے کائناتی وسعت نکالنے پر مصر ہوں، میرا کام روزمرہ دنیا کی وہ بہار دکھانا ہے جسے ہمارے شعراء نے عرصہ ہوا اردو شاعری سے نکال باہر کیا ہے۔
باقی شعر دیکھیے :
لیلیٰ جو مر گئی تو زنان قبیلہ نے
ماتم تمام رات رکھا منھ کو ڈھانک ڈھانک
لیلیٰ کے ساتھ مصحفی کو خاص دل چسپی ہے۔ انھوں نے اس تلمیح کو بدل بدل کر برتا ہے، کبھی کنایے کی صورت میں کبھی استعارے کی شکل میں،(میں مصحفی کی تلمیحات پر الگ سے مضمون لکھ چکا ہوں)۔ منھ کو ڈھانک ڈھانک کر ماتم کرنا شاید کچھ تہذیبی معنی بھی رکھتا ہو۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ لیلیٰ کے مرنے کا ماتم رات کو ہوا۔ ظاہر ہے یہ سوگ لیلیٰ کے نام اور حیثیت کے قریں تھا۔ ہمارے ہاں عام ہے کہ بیبیوں کا جنازہ رات کو اٹھایا جاتا ہے۔ معلوم حقیقت ہے، مجنوں لیلیٰ سے پہلے دارالمحن سے چھوٹا۔ مجنوں کے مرنے تک لیلیٰ کی شہرت شرق و غرب میں پھیل چکی تھی (رومی کا نظم کردہ قصہ سب کو یاد ہے : گفت خاموش کن چو مجنوں نیستی)۔ ایسی محبوبہ کا اٹھ جانا عام بات نہ تھی۔ شاید منھ کو ڈھانکنا ماتم کی آواز کو دبانے اور لوگوں سے لیلیٰ کی موت کو چھپانے کا پردہ ہو۔ ماتم کو عورتوں اور علی الخصوص قبیلے کی خواتین تک محدود رکھنا یہ بھی بتاتا ہے کہ قبیلے کے مرد لیلیٰ کی محبت کے قصے سے کچھ خوش نہ تھے۔ گویا عورتوں کا منھ ڈھانک کر رونا مجبوری تھا۔ بہ ہر صورت معنی جو بھی ہوں، مصحفی نے تلمیح کی تخیلاتی فضا کو اپنی روز افزوں کلپنا کے ساتھ مزید وسیع کیا ہے۔ یہ ان کا عام انداز ہے۔
تجھ سا پری میاں تو نہ کوئی نظر پڑا
یوں لاکھ خوبرو گئے غرفے سے جھانک جھانک
پہلا مصرع بہت سست معلوم ہوتا ہے۔ پری میاں کی ترکیب ذہن میں کھٹکتی ہے۔ پری سے تانیث کا خیال ہوتا ہے لیکن پری میاں کی ترکیب شاہد پسندی کی طرف اشارا کرتی ہے۔ اگلے مصرع میں لفظ خوبرو کا استعمال پہلے مصرع کے اشتباہ کو مضبوط بناتا ہے۔ غرفے سے جھانکنا، داغ و حسرت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ظاہر ہے چاہے داغ ہوں یا حسرت، مصحفی کی روزمرہ دنیا کو شعر میں ڈھالنے کے اثر سے آزاد نہ رہ سکے۔
زخمی ہوا ہوں کس کے میں ناوک کے پانک کا
جو دل پڑا پکارے ہے سینے میں پانک پانک
پانک لفظ ناقابل فہم ہے۔ اردو لغات (بشمول تاریخی لغت) میں جو تین معانی ملتے ہیں (کیچڑ، مچھلی کی قسم اور ذائقہ) وہ کفایت کرتے معلوم نہیں ہوتے۔ پہلے مصرعے کا پانک شاید زخم سے لطف اندوز ہونے کی کیفیت (=ذائقہ) ہو، لیکن دوسرے مصرعے میں پانک پانک، کی تکرار زیادہ بلاغت کا تقاضا کرتی ہے۔ مراٹھی سنسکرت لغت میں البتہ ایک معنی، شکر کے پانی سے تیار کردہ ایک خاص رسوب کے ہیں، جو زخموں کے اندمال میں کام آتا ہے۔ (اس صورت میں پانک کا اشتقاق سنسکرت کے पकव سے ہے، یعنی آگ پر جوش دیا گیا)۔ ان معنی کو مان کر دوسرا مصرع زخم کی شدت پر دال ہے۔ ضرب ایسی کاری ہے کہ دل پانک پانک پکار اٹھتا ہے۔ (پانک پانک کی صوت میں درد کی پکار البتہ در آئی ہے)۔ بہ ہر صورت یہ لفظ مزید تفحص کا متقاضی ہے۔ اردو لغت تاریخی اصولوں پر، کوئی مثال نہیں اور دو لفظ لکھ کر قصہ نبٹا دیا گیا ہے۔ سنسکرت میں تیر کے لیے مجازی لفظ اِشو ہے، اسی ذیل میں تیر کی نوک کو، اِشو پینک इषु पींक کہتے ہیں۔ شاید یہی پینک، پانک میں بدل گیا ہو۔
یاقوت لخت دل کی نہ قیمت چکی دریغ
حیراں رہے مقیم بہت اس کو آنک آنک
اس شعر کا اہم لفظ مقیم ہے۔ مقیم، کسی جگہ رہنے والے، ثابت، ارادے کے پختہ اور پیچھے سے آ کر جگہ سنبھالنے والے کو کہتے ہیں۔ دہ خدا میں ایک مجازی معنی، آنکہ کجی را راست کند، کے رقم ہیں۔ ظاہر ہے، یہ فقرہ جوہری کا کنایہ ہو سکتا ہے اور اسی کا شعر میں اشتباہ ہے۔ عربی میں یہ مادہ، آرائش کے فاعل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر مقیم ان معنوں میں ہے تو بھی نادر ہے۔
پہنچا دیا بہ منزل مقصود مصحفی
چوب قلم سے میں خر مفتی کو ہانک ہانک
منزل مقصود کی دلالت کی جانب اشارہ موجود نہیں ہے۔ لیکن رسمیاتی طور پر، یہی مراد ہے کہ مفتی کی حماقت کو عیاں کر دیا۔ احمد جاوید صاحب کا یہ خیال درست ہے کہ شعریاتی اداروں (جیسے واعظ، مفتی، ملا) کو رگیدنے کی جرات دراصل تہذیب کے بے تکلف اور Informal ہونے کی انتہا ہے۔
مصحفی اور قلم کے درمیان بھی خفیف رعایت ہے۔ البتہ،خر کا لفظ اضافی معلوم ہوتا ہے۔ ہانک کی تکرار از خود گدھے پن کا کنایہ ہے۔
