موت کا جہاز، جو لاہور کے اہم تعلیمی سربراہ کو نگل گیا
1875ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ ڈوبنے والے انگریز استاد کی کہانی
ممکن نہیں، آپ نے ٹائٹینک جہاز کا قصہ نہ سنا ہو۔ نوے کی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کے لیے ٹائٹینک ایک نوع کی تلمیح بن چکی ہے۔ انگریزی میں اب یہ لفظ روزمرہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ Ant-Man کا کردار، سکاٹ لانگ، کہتا ہے :
"Titanic doesn’t do so well in the cold”
ظاہر ہے، یہ جملہ بلیغ کنایہ (Inkling) ہے۔ ٹائٹینک جہاز کی الم انگیز کہانی کو دیر تک یاد رکھے جانے میں روز (Rose) اور مَیری (Mary) کی داستان اہم ہے۔ لیکن کیا یہ ڈوبے جانے والے جہازوں کا واحد پرکشش افسانہ ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، تاریخ کے درجنوں کردار اور جہاز سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق ہیں:
کوئی تاریخ بنے اور نہ زمانہ ہوئے لوگ
ہائے کیا لوگ تھے اور کیسے فسانہ ہوئے لوگ!
(سلیم کوثر)
انیسویں صدی کے گورنمنٹ کالج لاہور کے ایک استاد اور پرنسپل کی کہانی بھی سمندر کی ایسی ہی لہروں پر لکھی گئی، جن کے مدوجذر عدم کی سیاہ لپیٹوں میں پوشیدہ تھے۔ ہماری مراد، ریاضی کے استاد اور کالج کے جزوقتی پرنسپل ٹی ڈبلیو لِنڈسے (T.W. Lindsay) سے ہے۔ یہ قصہ 1875ء کا ہے، یعنی اب سے پورے ڈیڑھ سو برس پہلے کا۔
کون سوچ سکتا تھا، طلباء میں ہر دل عزیز پروفیسر لِنڈسے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ گھر واپسی کو پر تولیں گے اور ہمیشہ کے لیے پرواز کھو دیں گے۔
لِنڈسے کی گورنمنٹ کالج لاہور میں تقرری کالج کے ابتدائی دنوں میں ہوئی۔ وہ 1869ء میں کالج کے ریاضی کے شعبے سے منسلک ہوئے۔ اُن دنوں کالج راجا دھیان سنگھ حویلی کی تاریخی عمارت میں قائم تھا۔ لِنڈسے کی تقرری معروف پروفیسر ڈبلیو ایچ کرینک کی جگہ ہوئی تھی۔ عملی طور پر کرینک گورنمنٹ کالج لاہور میں تعینات ہونے والے پہلے استاد تھے جو فروری 1864ء کو لاہور پہنچے۔ کرینک کا تعلق یونیورسٹی کالج، لندن سے تھا اور وہ لاہور آنے سے قبل لکھنؤ میں لا مارٹینیر کالج کے پرنسپل تھے۔
اُن دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں ریاضی کے مضمون کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ابتداء میں پروفیسر کرینک کے علاوہ ضلع اسکول کے پرنسپل مسٹر بیدی بھی کالج میں ریاضی کی تدریس کا کام سر انجام دیتے تھے۔ ملحوظ رہے ضلع اسکول گورنمنٹ کالج لاہور کے قیام سے پہلے ہی راجا دھیان سنگھ حویلی میں فعال تھا۔
آج کل کی تعلیم کے برعکس گورنمنٹ کالج لاہور کے طلباء کے لیے، چاہے وہ کسی بھی مضمون کے ہوں، ریاضی اور طِبّ کی بنیادی تعلیم حاصل کرنا ضروری تھی۔ طِبّ کے بنیادی کورس کی تدریس نے گورنمنٹ کالج لاہور کی شہرت کو کلکتہ میڈیکل اسکول تک پہنچا دیا تھا۔
لِنڈسے نے، ڈاکٹر لائٹنر کی غیر موجودگی میں 1872ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل کا چارج سنبھالا۔ یہ وہی سال ہے، جس میں گورنمنٹ کالج لاہور، دھیان سنگھ حویلی سے نکل کر رحیم خان حویلی (موجودہ ویٹرنری کالج) کی پرانی بیرک میں منتقل ہوا۔ خوش قسمتی سے اس بیرک کا کچھ حصہ آج بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر لائٹنر اپنی بگڑتی صحت کے باعث لمبی چھٹی پر چلے گئے اور لِنڈسے تا دم آخر (1875ء تک) پرنسپل رہے۔ حتیٰ کہ لِنڈسے کی صحت بھی ڈانواں ڈول ہو گئی۔ یاد رکھنے کی بات ہے، انیسویں صدی کے لاہور کا موسمِ گرما اور جغرافیائی حالات ایسے نہ تھے کہ مغربی معاشرے کا پروردہ انسان آسانی سے انھیں برداشت کر سکتا۔ ڈاکٹر لائٹنر نے اپنی اسفار کی کتاب میں شمالی ہندوستان کے گرم موسم کا بار بار ذکر کیا ہے۔
1874ء میں گورنمنٹ کالج میں داخل ہونے والے آر بی چُنی لال (بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، میانوالی) نے اپنے ہر دل عزیز استاد لِنڈسے کو اِن الفاظ میں یاد کیا ہے:
” ایک واقعہ اُس بے ریا اور خوش اوقات طنز و مزاح کی مثال ہے جو کالج کے ابتدائی دنوں میں نیک دل پرنسپل، مسٹر لِنڈسے اور ان کے نائب ڈاکٹر اسٹلپناگل کے درمیان پیش آیا۔ [ڈاکٹر اسٹلپناگل کالج میں فلسفے اور تاریخ کے استاد تھے]۔ ڈاکٹر موصوف مسٹر لِنڈسے کی مجوزہ رخصت کے دوران عجلت سے پرنسپل کی کرسی سنبھالنا چاہتے تھے۔ اتفاقاً مسٹر لِنڈسے کسی نہ کسی وجہ سے رخصت مؤخر کرتے جا رہے تھے۔ بات یہ ہے، وہ بیشتر مشغول رہتے تھے۔
ایک روز، مسٹر لِنڈسے کے رخصت پر روانہ نہ ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر اسٹلپناگل نے بے چین ہو کر، سوال کیا:
“آپ روانہ ہونے میں تاخیر کیوں کر رہے ہیں، حالاں کہ آپ کو اس کی سخت ضرورت ہے؟”
مسٹر لِنڈسے نے جواب دیا، موسم کی ناگواریاں اور سفر کے خطرات انہیں پریشان کر رہے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر اسٹلپناگل نے پرنسپل کو یقین دلانے کے انداز میں کہا، ایک بار سفر شروع کرنے کے بعد سب کچھ آسانی سے طے پاتا جاتا ہے، آپ گیند کی طرح لُڑھکتے چلے جائیں گے، نَچِنت ہو کر روانہ ہو جائیے۔ اس فقرے پر، قابلِ احترام پرنسپل نے دل کو چھو لینے والے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا، ” عزیزِ من مجھے اندیشہ ہے، دیسی گھی کا یہ گیند زیادہ ہی نہ لڑھک جائے! شومئی قسمت سے یہ الفاظ تقدیر کا پانسہ ثابت ہوئے۔
کالج کے کوائف میں پروفیسر لِنڈسے کی چھٹی کی تاریخ جون 1875ء ملتی ہے۔ اس سفر میں اُن کی جواں سال بیوی اور معصوم بیٹیاں بھی ہمراہ تھیں۔ چھٹی کے دوران کالج کی ذمہ داری ڈاکٹر اسٹلپناگل کے سپرد کی گئی۔ گیریٹ نے اِسی قدر بتایا ہے، پروفیسر لِنڈسے جس جہاز میں واپس جا رہے تھے، وہ تباہ ہو گیا اور لِنڈسے بیوی بچوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے سمندر کی خاموش لہروں کا حصہ بن گئے۔ یہ خبر کالج کی تاریخ میں (جسے وجود میں آئے مشکل سے دس سال ہوئے تھے اور جس کے طلباء کی کُل تعداد پینتالیس تھی) اندوہ ناک سانحہ کے طور پر یاد رکھی گئی۔ کالج میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا۔
اگرچہ کالج کی تاریخ کے ریکارڈ میں جون 1875ء کے علاوہ چھٹی کی معین تاریخ نہیں ملتی۔ لیکن اس دور کے بحری سفر کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لِنڈسے نے لاہور سے سفر کا آغاز، جون کے نصف اول میں کیا ہو گا۔

راقم اس جہاز کی کچھ تفصیلات ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گیا ہے، جس میں بد قسمت لِنڈسے خاندان، سفرِ عدم کو روانہ تھا۔ گیریٹ کی تاریخ میں الم رسیدہ جہاز کا نام s.s. Coromandel درج ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں کئی بحری جہازوں کو کورومینڈل کا نام دیا گیا تھا۔ دراصل جہازوں کے یہ نام کورومینڈل ساحل کے نام پر رکھے گئے تھے۔
کورومینڈل کا ساحل ہندوستانی جزیرہ نما کے جنوب مشرقی حصے کے ساتھ واقع معروف ساحلی پٹی پر واقع ہے۔ یہ علاقہ تقریباً 22,800 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ ساحل کی اوسط اونچائی تقریباً 80 میٹر ہے جب کہ اس کے عقب میں مشرقی گھاٹ واقع ہیں، جو کم اونچائی اور ہموار چوٹیوں والی پہاڑیوں پر مشتمل سلسلہ بناتے ہیں۔ عرب جہاز ران اسے معبر کی ساحلی پٹی کے نام سے پکارتے تھے۔
چوں کہ لِنڈسے کی چھٹی کے اندراج کی تاریخ جون 1875ء ہے، لہذا گمان غالب بل کہ کسی قدر یقین سے کہا جا سکتا ہے، اس کے جہاز کا پورا نام کورومینڈل (شِپ 1872ء) تھا۔
جہازوں کے عالمی قاموس کے مطابق : یہ جہاز 1,986 گراس رجسٹر ٹن (5,620 مکعب میٹر) کے لوہے سے تیار شدہ تجارتی جہاز تھا جس میں کمپاؤنڈ بھاپ کا انجن لگا ہوا تھا۔ جہاز پائل، ولیم اینڈ کمپنی نے سنڈرلینڈ میں تیار کیا تھا اور اس کی ملکیت جے اینڈ جے ویٹ کے پاس تھی۔ یہ جہاز 30 جون 1875ء کو بمبئی سے روانہ ہو کر لیورپول کے سفر کے دوران ڈوب گیا۔ Shipwrecks کے ریکارڈ کے مطابق: جہاز میں سوار سبھی سوار ڈوب گئے، البتہ نفوس کی تعداد کا ذکر نہیں ملتا۔ جہاز کے ڈوبنے کی کہانی ٹائٹینک سے ملتی جلتی ہے۔ سمندر کے وسیع سینے میں چھپا آئس برگ جہاز ڈوبنے کا باعث بنا۔ کورومینڈل جہاز کے ڈوبنے کی رپورٹ جولائی 1875ء میں لکھی گئی۔
لِنڈسے کا تعلق کس ملک سے تھا، یہ معلومات بھی صیغۂ عدم میں ہیں۔ اس دور میں زیادہ تر امریکہ و یورپ کے استاد انگلستان کے راستے ہندوستان میں اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہے تھے۔ کلوور ہِل ڈائریز کے مطابق، لِنڈسے خاندان اصلاً سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھتا ہے، جو بعد ازاں آسٹریلیا اور امریکہ میں آباد ہوا۔
لِنڈسے کی ناگہانی موت کے بعد ان کے معمر والد لاہور آئے اور اپنے بیٹے کی علمی و دیگر باقیات کو اپنے ساتھ لے گئے۔ افسوس آج ہم اس واقعے کے متعلق زیادہ نہیں جانتے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس لِنڈسے کی تصویر بھی موجود نہیں ہے۔ لِنڈسے کی تصویر سے متعلق گیریٹ کی تاریخ میں ایک دل چسپ قصہ لکھا ہے، ملاحظہ ہو :
“اُن دنوں کالج میں ایک ماہر مصور موجود تھے۔ اُن کا نام سردار گورمکھ سنگھ تھا۔ وہ اپنی وفات تک اورینٹل کالج کی ایک فیلوشپ پر فائز رہے۔ وہ قدرے عمر رسیدہ طالب علم تھے جو اعلیٰ ترین جماعت (غالباً سال چہارم) میں پڑھتے تھے۔ سردار گورمکھ سنگھ نے رضامندی ظاہر کی کہ مسٹر لِنڈسے کی ایک تصویر کو روغنی رنگوں میں بڑا کر کے بنائیں گے، تاکہ مسٹر لِنڈسے اسے اپنے ساتھ گھر لے جا سکیں۔ سنا گیا ہے، مسٹر لِنڈسے مصور کو اُس کی خود عائد کردہ ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے اکثر سوال کرتے تھے:
”کیا آپ نے اپنے قیمتی وقت کے چند گھنٹے اِس بد ہیئت چہرے کے لیے نکالے ہیں؟“

برٹش انڈیا میوزیم میں 1870ء کے گورنمنٹ کالج لاہور کے اساتذہ کی ایک تصویر کا عکس انٹرنیٹ پر موجود ہے، البتہ اس کے نیچے اساتذہ کے نام نہیں لکھے گئے۔ یہ تصویر راجا دھیان سنگھ حویلی کے شمالی احاطے میں اتروائی گئی ہے۔ (راقم تصویر پر الگ سے ایک شذرہ تحریر کر چکا ہے)۔ اغلب ہے، اس فوٹو میں لِنڈسے موجود ہوں گے، لیکن ان کو ڈھونڈ نکالنا تحقیق کا اگلا مرحلہ ہے۔
