فہمی بدایونی کا شعر اور کلاسیکی اردو شعراء کی حسرت ناکیاں
عالمی ادب میں محبوب کی یاد کی وارداتی نشانیاں
سال دو ہزار چھبیس کے مطالعے کا آغاز فہمی بدایونی کے مجموعے، غبار، سے ہوا۔ دوست احباب (جن میں حماد رضا فطرس سر فہرست ہے) پہلے ہی فہمی کی غزل کے عاشق تھے۔ میں اس سلسلے کی نئی کڑی بنا۔ فہمی اَن کہے، مروجہ و غیر معمولی اور روزمرہ کے جذبات کو انوکھے پن، ماہرانہ سادگی اور تہذیب یافتہ معمول کی زبان میں پیش کرنے کے ہنر میں ماہر ہے۔ میں جانتا ہوں، یہ فقرہ زیادہ رواں نہیں، کچھ سادہ بھی نہیں لیکن معاملہ یہ ہے، میں کم سے کم لفظوں میں مافی الضمیر بیان کرکے آگے نکلنا چاہتا ہوں۔ فہمی کا جوہر فردیات میں خاص طور پر کُھل کر سامنے آتا ہے۔ میری دانست میں اردو شاعری کے مزاج میں فردیات میں بات چمکانا چنوتی سے کم نہیں۔ اس کے برعکس، غزل کے مزاج کا اہم اور دل چسپ پہلو: مطلع و مقطع کے مابین موسیقیت اور کسی قدر مانوس فضا کی بنیاد پر تقریباً ہر طرح کے شعر کو کھپانے کی استعداد کا حامل ہونا ہے۔ حسن عسکری کا یہ نکتہ بے حد اہم ہے کہ لمبی بحر کی غزلوں کے متعدد اشعار، مکمل غزل کے اندر لطف دیتے ہیں، لیکن جوں ہی انھیں فرد کے طور پر پڑھا جائے، تاثیر کی آنچ کم ہوتی جاتی ہے۔ جدید لوگ اسے خالص موضوعی بیان قرار دے کر جھٹلا سکتے ہیں لیکن شعر و ادب میں کئی مقام ایسے آتے ہیں، جب موضوعیت سے کام لیے بغیر چارہ نہیں۔ بہ ہر صورت، فردیات کے باب میں مرزا داغ کے بعد ہمارے دور میں فہمی نے یہ کارنامہ کر دکھایا ہے (داغ کے آخری دور کے فردیات، جنھیں احسن مارہروی نے محاورے کے صرف کے لیے استاد سے نظم کروایا تھا، اردو شاعری کا اہم اور قابل قدر حصہ ہیں)۔ یہ ساری رام لیلا مجھے فہمی کے ایک تقریباً نا قابلِ تقلید فرد کو نقل کرنے کے لیے رچانی پڑی، جس نے میری توجہ کئی دیگر باتوں کی طرف مبذول کروائی۔ اس تحریر کو اسی فرد کا نتیجہ یا کم سے کم شاخسانہ سمجھنا چاہیے۔ شعر ہے:
ترے موزے یہیں پر رہ گئے ہیں
میں ان سے اپنے دستانے بنا لوں
خود سپردگی اور وابستگی کا ایسا دھیما اور باوقار شعر اردو کی وسیع اور قابلِ رشک شعری روایت میں بھی النادر کالعدوم ہے۔ والٹ وٹمین کی Leaves of Grass (مترجمہ قیوم نظر) کی نظم Song of Myself کا قدرے شہوانی ٹکڑا یاد آتا ہے:
How you….
parted the shirt from my bosom-bone, and plunged…
to my bare-stript heart,
And reach’d till you felt my beard, and reach’d till you held my feet.
فہمی نے اس نوعیت کی باتوں سے اپنی غزل کو پر بہار بنا رکھا ہے، کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں:
تری تصویر پنکھا میز مفلر
مرے کمرے میں گردش کر رہے ہیں
تری خوشبو سے جو واقف نہیں ہیں
وہ پھولوں پر گزارا کر رہے ہیں
فہمی کا شعر پڑھ کر چونکنا فطری تھا، البتہ چونکنے کے ساتھ ساتھ، ذہن میں اردو اور عالمی ادب کے کئی دیگر نمونے اور واقعات بھی زندہ ہونے لگے، جنھیں فہمی کے شعر کا فیضان خیال کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں، بہت پہلے ( تقریباً اٹھارویں صدی کے وسط سے) روزمرہ دنیا ،بہ شمول اشیاء کی دیکھ ریکھ سے معشوقان کی یاد کو وارداتی انداز میں زندہ کرنے (To Relive) کی قوی روایت موجود ہے۔ جسمانی و طبعی ترتیب میں میر صاحب کا شعر دیکھیے :
آلودہ اس گلی کی جو ہوں خاک سے تو میرؔ
آب حیات سے بھی نہ وے پاؤں دھویئے
(دیوان میر)
میر کا خیال، اسلوب اور معنی آفرینی کی بے ساختگی کے باوجود کچھ زیادہ نیا نہیں۔ فارسی میں محبوب کے پاؤں کی خاک کو سر پر ڈالنے کی کافی پرانی روایت موجود ہے. (غالباً اس کا آغاز عربوں سے ہوا, قدیم عربی روایت میں ایسی باتوں کا تذکرہ کافی ملتا ہے)۔ اسیر شہرستانی نے میر سے ایک ڈیڑھ صدی پہلے بات کو پیچیدہ اور شور انگیز بنا کر پیش کیا ہے :
تا شدم خاک پای یار اسیر
بہ سرم می خورد بہار قسم
میر کے کلام میں اس نوع کی مثالوں کی بہار ہے۔ کلام میر سے مثالوں کو عملاً حذف کرتے ہوئے میں صرف ’بدن نامہ میر‘ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جس کو ملاحظہ کر کے مطلب تک پہنچا جا سکتا ہے۔ (حال ہی میں مجلس ترقیٔ ادب، نے بدن نامہء میر، کو انصرام کے ساتھ چھاپا ہے۔ البتہ پرانا ایڈیشن اپنی صحت کی وجہ سے تاحال قابل داد ہے۔)
میر کے دور ہی میں مصحفی نے دیوان اول میں، محبوب کے لمس کے احساس کی مناسبت سے تازہ کار شعر کہا ہے:
قلیاں ہوا ہے جب سے لب یار کا ندیم
مشتاق بوسہ رکھتے ہیں مہنال پر نظر
قلیان عربی میں حقے کو کہتے ہیں۔ شعر میں مضمون آفرینی تو ہے ہی، ہندوستانی معاشرت بھی در آئی ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرے، جب ہمارے دیہاتوں میں اجتماعی (لیکن غیر شعوری) طور پر حقہ پینے کی روایت موجود رہی ہے۔ ظاہر ہے، قلیان کشی کے دوران حقے کی نلی، ایک آدمی سے دوسرے کی جانب، سفر کرتی رہتی ہے۔ محبوب کے لب کے بوسے سے محروم عاشق کے لیے، یہ موقع غنیمت ہے کہ اس مہنال سے منہ لگا کر کش لگائے، جو محبوب کی لب گاہ رہ چکا ہے۔ یہ شعر، معاشرے کی عکاسی کے علاوہ محبوب کی جنس اور خصائل کے تعین کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ ظاہر ہے جو محبوب، کھلے عام حقہ کشی اور مجلس بازی کر رہا ہے، اس کی جنس و عادات کا تشخص مشکل نہیں۔
مصحفی کے دور سے تھوڑا پہلے، بیدل نے حقے کو استعارے اور خفی رعایت کے ساتھ استعمال کر کے نہایت عمدہ مضمون نکالا ہے:
از حقۂ دہانش ہر گہ سخن برآید
آب از عقیق ریزد دُرّ از عدن برآید
(جب بھی اس کے منہ کے باریک و معدوم جوف {حقے} سے کوئی بات نکلتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے عقیق سے پانی ٹپک رہا ہو اور جنت سے موتی نکل رہے ہوں)
مصحفی کا شعر (یا کسی قدر حقیقی عاشقانہ واردات) صرف مشرقی دنیا کی روداد نہیں، مغرب میں بھی یہی احوال ہے۔ جان کیٹس کی معشوقہ فینی براوننگ کا قصہ مشہور ہے۔ کیٹس نے فینی کا ایک بال اس قدر سنبھال کے رکھا تھا، کہ جوانا مرگی کے بعد اسے شاعر کے پس ماندہ سامان میں سب سےاہم خیال کیا گیا۔ کیٹس اس بال کو ایک مومی جامے میں سنبھال کر رکھتا تھا اور اسے Life Token کے الفاظ سے منسوب کرتا تھا۔ کیسی دل چسپ بات ہے، ہو بہو ایسا ہی مال غالب کی شاعری زنبیل میں بھی موجود ہے :
چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ سامان نکلا
میرا جی کے حوالے سے کہا جاتا ہے، وہ غالب کا یہ شعر پڑھ کر روتے تھے کہ ان کی ملکیت میں میرا سین کی ایک تصویر بھی نہیں۔ ظ انصاری کے بارے میں بھی معروف ہے، زندگی بھر انھوں نے ایک روسی نازنین کے آخری سگریٹ کی راکھ کو سینت سینت کر رکھا۔
مصحفی کے قلیان سے، تجنیس کے طور پر نظیر اکبر آبادی کا کلیوں (Gargles) پر مبنی شعر بھی یاد آتا ہے:
وہ مجھ پہ پھینکتا پانی کی کلّیاں بھر بھر
میں اس کے چھینٹوں سے تو پیرہن بھگوتا تھا
نظیر کے دوسرے مصرعے میں ’تو‘ اضافی معلوم ہوتا ہے۔ بہ ہر صورت یہی کیا کم ہے، کہ کلیوں جیسی روزمرہ اور غیر شاعرانہ چیز کو شعری ذخیرے یا Reservier کا حصہ بنا لیا گیا۔ ہمارے پرانے اساتذہ ناک بھوں چڑھا کر شاید اسے خارجیت جیسے مبہم لفظ سے منسوب کرتے۔ اگر بالفرض ایسی کسی اصطلاح پر طوعاً و کرہاً ایمان لے بھی آیا جائے تو یہ خوبی مستزاد سمجھنی چاہیے کہ خارج کے عمل کو بہ سہولت داخل کی زندگی کا حصہ بنا لیا گیا۔ اس کے بعد، ظاہر ہے، خارجیت و داخلیت کا قصہ ہی پاک ہو جاتا ہے۔
مرزا داغ تک آتے آتے رشک کی یہ روایت محبوب کے اگال تک جا پہنچی۔ یادگار داغ کا فرد ہے :
سمجھیں اسے ہم تو لال و یاقوت
مل جائے اگر اگال تیرا
شعر سامنے کا معلوم ہوتا ہے، لیکن اگال کی رنگت اور لال و یاقوت کے درمیان عمدہ خفی رعایت موجود ہے۔ اگال عموماً چبائی ہوئی چیز اور خصوصاََ پان کے بقایا جات کو کہتے ہیں۔ پان کی سرخی اور لال و یاقوت کی رنگت میں مناسبت واضح ہے۔ داغ سے ایک دو دہائی پہلے قلق نے (جو واجد علی شاہ کا درباری شاعر بھی تھا) بات کو کھول کر اور جنسی کنائے میں بیان کیا ہے:
لوٹے مزے جو ہم نے تمہارے اگال کے
مر مر گئے رقیب لہو ڈال ڈال کے
لوٹے اور مرنے کے درمیان کیسی زبردست مناسبت ہے!
میر کی مثنوی ’معاملات عشق‘ کے ’معاملۂ چہارم‘ میں عاشق محبوب سے اسی نوع کا تقاضا کرتا ہے :
ایک دن پان وے چباتے تھے
سرخ لب ان کے مجھ کو بھاتے تھے
کہہ اٹھا میں اگر اگال مجھے
منھ سے دو تو کرو نہال مجھے
بولے یوں ہی ہے میں کہا ہاں سچ
جھوٹا کھاتے ہیں میٹھے کی لالچ
غالب کا معاملہ اور ہے، ظاہر ہے ان کی اشرافیائی شخصیت انھیں اگال کی سطح پر اترنے کی کیوں کر اجازت دے سکتی ہے لیکن درپردہ خواہش کا اظہار انھوں نے بھی کیا ہے:
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں
بوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے مجھے بتا کہ یُوں
ہمارے دور میں علی اکبر ناطق نے اسی ضلع کا شعر نکالا ہے :
گفت گو ایسی چلی لعل لباں سے میری
کھینچ لی اس نے زباں اپنی زبان سے میری
غالب کے معروف شعر کے دوسرے مصرعے (کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا/ بس چپ رہو کہ اپنے بھی منہ میں زبان ہے) کے معنی کے بارے میں حالی جیسے شریف آدمی نے لکھا ہے کہ ہم تمہاری زبان کے ذائقے سے آگاہ ہیں، چکھ کر تمہارے دعوے کی قلعی کھول دیں گے۔ میر کا بے مثال شعر سبھی کو حفظ ہے:
کشتہ ہوں میں تو شیریں زبانی یار کا
اے کاش وہ زبان ہو میرے دہن کے بیچ
نظیر، داغ، میر اور غالب کے شعروں سے یونانی شاعرہ سوفو کی Ode to Aphrodite کی یاد آتی ہے۔ سوفو نے ہزاروں سال پہلے جسمانی خمار کے لیے ”بخار، ٹھنڈے میٹھے پسینے، کپکپاہٹ اور تازہ سبز گھاس پر چلنے“ جیسی نادر تشبیہات استعمال کی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سلویا پلاتھ کی ایک دو نظموں میں کھلے بندوں ایسی باتیں پڑھی ہیں کہ دانتوں تلے پسینہ آنے لگا: کیا کیا کہا کرے ہیں زبان سخن سے ہم!
طب العرب میں خلیفہ یزید بن عبد الملک (جو اپنی کنیز حبّابہ کے عشق میں فوت ہوا) کے باب میں ایک دل چسپ واقعہ نقل ہوا ہے۔ یزید حبّابہ کے گانے پر وجد کیا کرتا تھا۔ خصوصا ایک شعر اسے نشے کی انتہا پر لے جاتا:
بین التراقی و اللھاۃ حرارہ
ماتطمئن ولا تسوع فتبرد
(ہنسلی کی ہڈی اور حلق کے کوّے کے درمیان ایک آتش سوزاں ہے جو نہ سکون پذیر ہوتی ہے اور نہ نگلی جا سکتی ہے تاکہ ٹھنڈی ہو جائے۔)
تشبیہ کی تیزی پر غور کیجیے، قاری کو اپنے سینے اور ہنسلی کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس سے ملتی جلتی باتیں حماسہ میں بھی ہیں۔
عربی شعر سے دیوان متنبی میں عارضۂ تپ سے متعلق نظم بھی یاد آتی ہے۔ نظم میں بخار کو ایسی محبوبہ قرار دیا گیا ہے، جو رات کے وقت آتی ہے (بخار عموماً شام یا رات میں تیز ہو جاتا ہے) اور عاشق کو نڈھال کر دیتی ہے۔ پوری کی پوری نظم نقل کرنے کے لائق ہے، لیکن قاری کو زحمت سے بچانے کے لیے ایک شعر پر اکتفا کرتا ہوں:
اذا ما فارقتنی غسّلتنی
کاننّا عاکفان علی حرام
جب وہ (محبوبہ= بخار) مجھ سے جدا ہوتی ہے تو مجھے غسل دیتی ہے یعنی اپنی شدت سے مجھے پسینے میں شرابور کر دیتی ہے۔
ظاہر ہے شعر کنائے کا ہے جس کا مطلب اہل ذوق سے ڈھکا چھپا نہیں۔
اتنی بہت سی باتیں، فہمی کے شعر سے یاد آنا ان کے صاحب طرز غزل گو ہونے پر دال ہے۔ انھوں نے یونہی نہیں کہا ہے:
کسی بھی آگ سے بے خوف کھیل سکتا ہوں
مری غزل میں کرایے کا مال تھوڑی ہے!
