مصحفی کے شعر میں جھومے ہے مینا ہند کا

مصحفی کے کلام میں ہندوستانی و ہندوی تمدن کا کثرت سے ذکر سے ملتا ہے۔ انھوں نے انیسویں صدی کے ہندوستان کو اپنے کلام میں زندہ و جاوید کر دیا ہے۔

کلامِ مصحفی میں ہندوستانی تمدن

 

مصحفی نے دیگر کلاسیکی شعراء کی نسبت ہندو اساطیر اور رسوم کو زیادہ قوت سے برتا ہے۔ اس حوالے سے ان کے نو دواوین کا ترتیب وار مطالعہ خاصا دل چسپ ہے ( جلد نہم قصائد پر مبنی ہے)۔ غزلیات کا آٹھواں مختصر دیوان ( جو نامکمل اور محض ایک سو پینتالیس غزلوں پر مشتمل ہے ) عمومی رنگ سے خاصا مختلف ہے۔ ہو سکتا ہے ، موت کی وجہ سے مصحفی انتخاب نہ کر پائے ہوں۔ لیکن یہ بھی صرف بات ہے۔ جو شاعر اتنا زود گو رہا ہو کہ اپنی منکوحہ و ممتوعہ بیویوں کے ساتھ روزمرہ گفت گو کو بھی منظوم پیرائے میں ادا کرے، اس کے پاس غزلوں کو چھاننے پھٹکنے کا دماغ کہاں۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اساتذہ کے ہاں غزل ، زندگی کے ہموار و پست کو پیش کرنے کی آئینہ دار صنف تھی۔ زود گوئی : زندگی اور اس کے متعلقات ( یکساں و متضاد) کو برتنے کے لیے حربے (Strategy) کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ میر:

پست و بلند دیکھیں کیا میرؔ پیش آئے

اس دشت سے ہم اب تو سیلاب سے چلے ہیں

 

بہ ہر صورت مصحفی کے دیوانِ ہشتم میں ہندو رسوم و رواج کا بیان اس کثرت سے ہے کہ اودھ کی سناتن تہذیب سانس لیتی دکھائی دیتی ہے۔ جن لوگوں کو اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب کی غَیبَت کا گلہ ہے ، انھیں یہ دیوان ضرور پڑھنا چاہیے ، حافظے کی بنیاد پر چند شعر لکھتا ہوں:

یارِ دھرماتما کا پیار کے ساتھ

بوسہ دینا بھی مجھ کو پُن سا لگا

 

اس قدر کافر کشی پہ باندھی ہیضے نے کمر

سیکڑوں ہندو موئے سو ارتھیاں مرگھٹ گئیں

 

اللہ رے یہ کثرت اموات ہندواں

آتی ہے ہر گلی میں صدا رام رام کی

 

آخری دو شعروں کا پس منظر جزئیات و کیفیات کے علاوہ خاصا معاشرتی و آبادیاتی (Demographic) نظر آتا ہے۔ ایسے شعروں کے معنی اور کنایے تاریخ و تمدن کے طبعی پہلوؤں کو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ غالب نے اپنے خطوط میں دلی کی وباؤں اور حکیموں کے طرزِ علاج کو زندہ کر دیا ہے۔ غالب سے بہت پہلے یہ کام مصحفی نے شاعری میں کیا ہے۔ لیکن شاعری ، نثر یا خطوں کی بجائے نسبتاً زیادہ معروضی متن ہوتا ہے۔ شاعر سے حقائق کو متحجر( Fossiled) کرنے کا تقاضا زیادہ عاقلانہ بات بھی نہیں۔ اس سب کے باوجود دلی اور لکھنؤ کے گلیاروں اور رجواڑوں کے نقشوں سے لے کر ، دریچوں ، غرفوں اور ہندوستانی ریتی رواج کا جو بیان مصحفی کے ہاں ملتا ہے ، انیسویں صدی کے دوسرے شاعروں کے کلام میں اس کا عشرِ عشیر بھی موجود نہیں۔

آٹھویں دیوان ہی کی ایک غزل کا مقطع دیکھیے:

ایک کی باقی رہی ہرگز نہ نسل

مصحفی راون کے جو ستّر تھے پوت

واضح رہے کہ راون یہاں استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ تاریخی اشارا یا تلمیح محض استعارے کی بنیاد (Substrat) کا کام کر رہا ہے۔ یہ شعر ، برائی کے سب سے اہم ہندوستانی کردار ، راون ، کے ذریعے اخلاقیات کو سمجھنے کا پیرایہ ہے۔

راون ہندو دھرم کی رزمیہ داستان رامائن کا اہم مرکزی کردار ہے۔ عام طور پر اسے برائی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ (اگرچہ آج کل اس کے اینٹی کردار پر بھی بات ہونے لگی ہے). راون کی رام چندر کے ساتھ لڑائی معروف ہے۔ لڑائی کا سبب سیتا کا اغوا تھا۔ قصہ اتنا سامنے کا ہے کہ دہرانے کی حاجت معلوم نہیں ہوتی۔ دسہرے کے تیوہار میں راون کے پُتلے جلا کر رام چندر یعنی بھلائی کی جیت کا اظہار اسی داستان کی یاد گیری ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے ، روان کو دشو دھن یا دشو مکھ کہا جاتا ہے یعنی دس سروں اور دس بازوؤں والا۔ یہ اس کی طاقت اور ہیبت کی نشانی ہے۔ مصحفی نے راون (یعنی برائی) کی نسل کو ابتر دکھانے کے لیے راون کے بیٹوں کی بربادی کا ذکر کیا ہے۔ یہ سامنے کی بات نہیں ہے۔ کہنے کو ہمارے شاعر آج بھی راون ، لنکا اور سیتا کا ذکر کرتے ہیں لیکن چوں کہ پورے قصے اور اس کی باریکیوں تک ان کی رسائی نہیں ہوتی ، لہذا شعر اکہرا ہو کر رہ جاتا ہے۔ رامائن میں راون کے سات بیٹوں کا تذکرہ ملتا ہے ، یہ ساتوں کسی نہ کسی خصوصیت کے باعث مقبول ہیں۔ مثال کے طور پر میگھناد نے، جسے اندراجیت بھی کہا جاتا ہے ، اِندر (راجاؤں کے راجا) کو شکست دی تھی۔ اتکای کی خاص شکتیاں اپنے طور پر تلمیح ہیں۔ کچھ اچاریہ کے مطابق بیٹوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ اصل تعداد ستر یا سو ہے یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ ظاہر ہے، یہاں تعداد سے سروکار نہیں ، قوت سے ہے۔ لیکن اس سب قوت و جبروت کا کیا ہوا؟ سارا طمطراق تیرہ طاقتوں کا تھا سو گم نامی مقدر ٹھہری۔ یہ گم نامی تاریخ کی شے سے بڑھ کر ، زندہ و جاوید ، بہتی بہاتی حقیقت ہے۔ نام یا کام کا زندہ رہنا بھلائی کی میراث ہے. مزید نکتہ یہ بھی کہ عام رواج کے برعکس بیٹوں سے چلنے والی نسل کے عقیدے کی بھی تقلیب کی ہے۔ ذوق کا معروف شعر سب کو یاد ہو گا:

رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوقؔ

اولاد سے رہے یہی دو پشت چار پشت

یہ بات اپنے طور پر عجیب ہے ، کہ آج ہندوستان میں راون جیسے منفی کردار کی پوجا بھی ہونے لگی ہے۔ راون کی پوجا پاٹ کے لیے الگ مندر بھی تعمیر ہو رہے ہیں۔ براہمن برادری کے بعض طبقے اپنے کو راون کے خاندان کا بتلاتے ہیں۔ بہر صورت مصحفی نے بالکل سامنے کے شعر میں سیکھنے کا اتنا سامان رکھ دیا ہے۔

میر نے اس قصے کو جو استعاراتی بلندی دی ہے ، اس تک پہنچنا مشکل ہے :

آتش عشق نے راون کو جلا کر مارا

گرچہ لنکا سا تھا اس دیو کا گھر پانی میں

شمس الرحمن فاروقی نے میر کے شعر کی شرح میں عمدہ بات لکھی ہے کہ عشق کیا شیطان، کیا دیو و بشر ، کسی کو نہیں چھوڑتا۔ راون کی کیا اوقات!

مصحفی نے میر کے پہلو سے دامن بچا کر بات کی ہے اور مضمون کو صفائی سے برت لیا ہے۔

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button