میر پر ایک اعتراض کا جواب
شب خون کے کسی شمارے میں ظ انصاری مرحوم نے ایک شاندار مضمون لکھا تھا : کچھ لفظ ‘تو’ کے بارے میں۔ ظ انصاری کا علمی مرتبہ سب کے سامنے ہے۔ کئی زبانوں سے آشنائی نے ان کے اندر قاموسی (Encyclopedic) صلاحیت پیدا کر دی تھی۔ مضمون میں حرفِ عطف پر باریک اور لطیف بحثیں موجود ہیں۔ اساتذہ اور جدید شاعروں کے کلام سے کثیر اور موثق مثالیں بھی مہیا کی ہیں۔ میر کے شعر پر ان کا تبصرہ بار بار پڑھے جانے کے لائق ہے :
"میر نے یہ لفظ (تو) ایک ہی مصرعے میں دہرایا اور کمال کر دیا ( واقعہ یہ ہے کہ حسن بیان کے آگے اصول فن کی پیش نہیں جاتی ) ملاحظہ ہو :
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
پہلے ‘تو’ کو پوری آواز کے ساتھ اس طرح ادا کرنا پڑتا ہے کہ خدشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں ہم نے پھوڑے سے پکے ہوئے دل کو ہاتھ تو نہیں لگا دیا اور دوسرا ‘تو’ مصرعے کے اندر دب کر آہستہ سے گزر جاتا ہے۔”
ظ انصاری کا بیان استادی اور فہمِ سلیم کا شاہکار ہے۔ اس بات کا بھی شافی جواب مل جاتا ہے کہ تکرار و تنافر لفظ کے اندر نہیں ، بل کہ شاعر کے برتاؤ میں ہوتے ہیں۔
پچھلے دنوں اردو کے ایک معروف مشاعراتی شاعر نے میر کی شاعری پر اعتراض کیا ہے کہ ان کی تشبیہات اور حرفِ اشارہ نسبتاً سست ہوتے ہیں۔ ویسے تو اس طرح کے اعتراض کی چنداں حیثیت نہیں۔ لیکن بعد ازاں میں نے دو تین نوجوانوں کو ایسے سوال پوچھتے سنا تو لکھتے ہی بنی۔ میر کو پڑھنے والوں کی تعداد ہر دور میں کم رہی ہے لیکن ایسی بے خبری ، بل کہ گمراہی کا مظاہرہ کم کم ہوا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ عوام و خواص میں میر کی شہرت ( جس کے بہت سے پہلو ہیں) کا زیادہ تر دارومدار اسی بات پر ہے کہ وہ چھوٹے اور سامنے کے معمولی لفظوں میں تخلیقی حرارت بھر دیتے ہیں۔کسی غزل پر اصولی اعتراض کوئی خراب بات نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب اس کی تعمیم کی جائے۔ میر کی غزلوں میں تشبیہ ہمیشہ ہی ایسی ہوتی ہے ، میر کی غزلوں کا آہنگ سست ہے۔۔۔۔وغیرہ۔ ظاہر ہے دیگر شاعروں کی نسبت میر و مصحفی پر یہ اعتراض ان کی شعری ضخامت کے باعث بھی ناروا ہے۔ کیا ہم میر کے سارا کلام نہیں تو اس کا معتد بہ حصہ پڑھ چکے ہیں؟ کیا سارے اعتراضات پانچ غزلیں ، پندرہ شعر اور چھ سات واقعات پر کھڑی ہے۔ یہ سخت علمی بد دیانتی ہے۔
معترض نے میر کی معروف غزل "ہستی اپنی حباب کی سی ہے” پر نکتہ چینی کرتے ہوئے "کی سی” کو پنجابی عامیانہ ترکیب کے قریب قرار دیا ہے۔
اول تو کسی ایک زبان کی ترکیب کی دوسری زبان سے صوتی مماثلت عیب کی بات نہیں ( بل کہ عین فطری ہے)۔ درجنوں مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ عربی و فارسی جیسی شستہ زبانوں کے الفاظ اور تلفّظ دیگر زبانوں میں کیا سے کیا بن جاتے ہیں۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ میر کی غزل کی ردیف برائے بیت ہرگز نہیں۔ پوری غزل میں "کی سی ہے” کی ادائیگی میں خفیف تبدیلی بھی معنی کو بدل دیتی ہے۔ ہستی اپنی حباب کی سی ہے ، والے شعر میں کی سی ہے ، کے الفاظ قطعیت اور بیان کی وضاحت کا اشارا ہیں۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے ، میں ردیف گو مگو اور تذبذب کی کیفیت کا بیان ہے۔ یعنی کیا ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ لب کو اک پنکھڑی کہنا ( نہ کہ لبوں کو پنکھڑیاں کہنا) کیسا محتاط اور حشو و زوائد سے پاک بیان ہے۔ مشبہ بہٖ کا حسن ظاہر ہے کہ مشبہ سے کم ہے۔
یہ کیفیت میر کے شعروں میں جگہ جگہ ملتی ہے :
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دیوان اول
یاقوت کوئی اس کو کہے ہے کوئی گلبرگ
ٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اِک بات ٹھہر جاوے
دیوان اول
( لفظ اِک کی حرارت ملاحظہ ہو)
یہی حالت اس غزل کے سبھی شعروں کی ہے۔
کہیں پر ردیف تنبیہ کا بیان ہے ، کہیں پر اشتباہ کا۔ انیسویں صدی کے اردو شاعر ردیف کو ، مجرد موسیقیت کے علی الرغم معنی آفرینی کے حربے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ظاہر ہے بے چارے معترض ان باتوں کو جانتے ہوتے تو ان خیالات کا اظہار نہ کرتے۔ انھوں نے بہت کیا تو ردیف قافیے میں قافیہ جوڑ کر کام پورا کر کیا۔ والسلام۔ شعر کی باریکیوں سے انھیں کیا رغبت۔
میر کے اسمِ اشارہ کے سلسلے میں لمبی چوڑی بحث کی بجائے ایک شعر پیش کرتا ہوں۔ یہ شعر آج ہی صبح میر خوانی کے دوران نظر سے گزرا:
کاغذ ابری پہ درد دل اسے لکھ بھیجیے
وہ بھی تو جانے کہ یاں آشوب چشم تر سے ہے
دوسرے مصرع کے ‘یاں’ نے شعر کو امکانات کا پری خانہ بنا دیا ہے۔ محبوب کو ابری کاغذ پر دل کا حال لکھ بھیجنا اول تو اظہار کی باریکی ہے۔ خط لکھنے کے ایسی حسرتیں میر (اور مصحفی) کے ہاں عام ہیں:
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
بہر صورت، ابری کاغذ ابتدا میں کاغذ کو رنگین اور نقش دار بنانے کا ایک طریقہ تھا۔ بعد ازاں ایسے کاغذ کو ہی ابری کاغذ کہا جانے لگا۔ غالب نے اپنے خط میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ابری کاغذ پر موجوں کی شکل یا ہلکے نیلے ابھار بنائے جاتے تھے ، جو پس منظر کے طور پر بھلے معلوم ہوتے تھے.
صائب کا شعر ہے :
داشت باران طمع از کاغذ ابری صائب
از لئیمان جہاں آن کہ سخاوت می خواست
(صائب کی سادہ دلی ! کہ ابری کاغذ سے بارش کی توقع رکھتا ہے۔ بعینہٖ جیسے کوئی دنیا کے کنجوسوں سے سخاوت چاہے۔)
میر سوز نے رنگوں کی آمیزش سے اسے ڈھنگ سے برتا کیا ہے :
لکھوں ہوں نامہ تو کر ڈالتی ہے ابری سرخ
فراق دوست میں یہ چشم خوں فشاں کاغذ
ابری کاغذ قیمتی شاہی کتابوں کی جلدیں سجانے، اوراق یا سرورق کو دیدہ زیب بنانے اور نایاب خطّی کتابوں کی تزئین و آرائش میں استعمال ہوتا تھا۔
ابری کاغذ پر خط لکھنا ، نامہ و حال کی باریکی ، اور خط کی آرائش و دیدہ زیبی ہر دو حوالے سے موزوں ہے۔ شعر میں ابر اور چشم تر میں رعایت ہے۔
اب آئیے دوسرے مصرعے کے لفظ یاں کی طرف۔ وہ بھی تو جانے کہ یاں آشوب چشم تر سے ہے۔ جس آشوب کی بات ہو رہی ہے ، اس کا مشار الیہ کون ہے ؟ عاشق کا دل ؟ دل سے بڑھ کر طبعی حالات کی خرابی ( مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا) ؟
ایک عہد کا آشوب ( جو ذاتی سے بڑھ کر سیاسی آشوب کا بھی استعارہ ہو سکتا ہے )؟
یا پورے جہان کا؟ ایک لفظ یاں کے اندر خاکی سطح سے سماوی بلندی تک سارے امکانات جمع کرنا کیسی بلند ہنری کی علامت ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ دوسرے مصرع کے متکلم کی کیفیت یا Mood بدلنے سے شعر کا نقشہ بدلتا ہے۔ وہ بھی تو جانے ، کا ٹکڑا رنج سے کہا جائے تو عاشق کی مسکینی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی ٹکڑا ذرا جرات اور بے باکی سے ادا ہو تو عاشق کے صبرِ آخر یا Optimum Temperature کا نمایندہ بن جاتا ہے۔ چنوتی سے بھرے لہجے کی فضا بالکل اور معنی متعین کرتی ہے۔ غرض شعر کیا ہے اچھا خاصا معمہ ہے۔ یہ سب صرف لفظ یاں سے ممکن ہو پایا ، جسے ہمارے شاعر سست کہہ رہے ہیں۔
فرانسس پرچیٹ نے کہا تھا ، میر جیسے شاعر کی موجودگی زبان کا سر فخر سے بلند رکھتی ہے۔ ادھر ہماری طرف یہ عالم ہے کہ ہر مصرع موزوں کرنے والا میر کے شعر پر اعتراض کرتا ہے کہ ، بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا!
