میں پروفیسر کیوں نہیں؟

محترم کونسٹنٹن سارنکوف 21 اپریل 1912ء ایک چیز، بل کہ دو چیزیں مجھے ہندوستان میں “پروفیسر” بن کر آنے سے حاصل ہوئی ہیں : اول یہ علم کہ میں ”پروفیسر“ نہیں ہوں۔ دوم یہ احساس کہ اب چاہ کر بھی میں مذہبی پیشوا نہیں بن سکتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے، اب تک میں اپنے آپ …

دیال سنگھ کالج لاہور میں تقرر یافتہ انگریزی ادب کے پروفیسر، فلپ ارنسٹ رچرڈ کا ایک دل چسپ خط: اپریل 1912ء لاہور

محترم کونسٹنٹن سارنکوف
21 اپریل 1912ء

ایک چیز، بل کہ دو چیزیں مجھے ہندوستان میں “پروفیسر” بن کر آنے سے حاصل ہوئی ہیں :
اول یہ علم کہ میں ”پروفیسر“ نہیں ہوں۔
دوم یہ احساس کہ اب چاہ کر بھی میں مذہبی پیشوا نہیں بن سکتا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے، اب تک میں اپنے آپ کو ایک نوع کا فریب دیتا رہا ہوں۔ اچانک مجھے اس بات کا ادراک ہوا ہے : ساری ظاہری شرافت اور ایمان لائی ہوئی آراء اصل میں کئی فاش غلطیوں پر قائم ہوتی ہیں۔

میں عرف عام میں پروفیسر نہیں ہوں، میں طلباء پر رعب جمانے یا ” نظم و ضبط” کا حامل مشہور کردار ادا کرنے کا اہل بھی نہیں۔ میں ان سے محبت کرتا ہوں، محض بے پناہ محبت۔ مجھے تصنع، دکھاوے اور فوجی انداز کی سختی سے چڑ ہے۔ روایتی، گھسے پٹے اور لگے بندھے خیالات کو پڑھانے سے بھی قاصر ہوں، ظاہر ہے یہ سب خصوصیات ہندوستانی نصاب میں علی الخصوص مطلوب ہوتی ہیں۔

جب میں کلاس میں کسی نظم یا ناول کے چند صفحات پڑھاتا ہوں اور مجھ سے اُن پر رائے مانگی جاتی ہے۔ فوراً میرا سابقہ روایتی تدریس سے ہوتا ہے، جس کے مطابق شاعر کے معنی کو گھٹا کر اور قدرے محدود بنا کر بیان کیا جاتا ہے۔ کیا کِیا جائے، ہندوستانی امتحان میں سرخروئی کے لیے یہی طریقہ کار آمد خیال کیا جاتا ہے۔

اگر شاعر اپنے کلام میں لفظ ”محبت“، برتتا ہے تو میں کھلے بندوں کہتا ہوں : محبت، نہ کہ شادی۔ اگر شاعر کہتا ہے ”بغاوت“ تو میں صاف صاف بتاتا ہوں : بغاوت، نہ کہ چیزوں کو بعینہٖ قبول کر لینے کی مسرت۔

یہ سب باتیں ایک پروفیسر کی حیثیت سے میرے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ لیکن اس سے بڑی دِقّت یہ ہے، میں اکڑے ہوئے کالر اور لمبے لمبے کوٹ پہننے سے بیزار ہوں۔ کیا حلیہ ہے! مجھے اپنے بارے میں خدا کی طرح باتیں کرنا کاٹ کھاتا ہے۔ ظاہر ہے، ایسی باتوں کا مقصد ریاکاری کو فروغ دے کر توہم پرست لوگوں کے احترام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھنا ہے۔ ہندوستان میں جس چیز کو ”تعلیم“ کہا جاتا ہے، اس سے میں ناک میں در آنے والی کڑواہٹ کی طرح اَدبدا اٹھتا ہوں۔ دل چسپ بات ہے، اس سب کے باوجود میں کسی بھی میسر پروفیسر کی نسبت زیادہ خوشی و شگفتگی سے ادب پڑھاتا ہوں۔ سچ پوچھیے، میں اُس وقت تک پروفیسر ہوں، جب تک مجھے پروفیسر نہ بننے کی مہلت دی جائے۔

ہندوستان میں میرے معاہدے کا حصہ ہے، میں مذہب کی تعلیم بھی دوں۔ ہفتے میں چار دن، آدھے آدھے گھنٹے کے لیے مذہب پڑھاتا ہوں۔ ذرا تصور کیجیے، ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، آریہ سماج کے پیروکاروں، برہمو سماج کے معتقدین اور نہ جانے کتنے باہم متصادم فرقوں کو ”مذہب کی تعلیم“ دینا! میں نے ابتداء ہی میں طے کر لیا تھا، تنگ نظری کی جگہ انسانیت کو معیار بناؤں گا۔ مثلاً یہی دیکھیے، یہاں لاہور میں ہندو مسلمانوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے۔ میں نے ارادہ کیا، اس نوع کی تمام رسموں اور ان کے درپردہ، کار فرما راسخ عقائد کو چنوتی دوں۔ درحقیقت، میں روایتی اور سخت گیر مذہبی نظریات کو طالب علموں کے لیے لطیف اور فن آمیز بنانا چاہتا ہوں۔ (ہندوستان میں مذہب پہلے ہی بیش از بیش ہے، اس ہوش ربا اور تاریخی اعتبار سے باثروت ترین وطن کو اگر حقیقی طور پر کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ تجارت ہے، تاکہ اسے کھویا ہوا مقام مل سکے!)

اس پیشے میں مجھے یہ سب کچھ اس نوعیت سے انجام دینا تھا کہ ہنگامہ نہ برپا ہو۔ میرا منصوبہ سادہ تھا۔ سب سے پہلے، طلبہ کو یہ محسوس کروانا اہم تھا کہ میں انہیں پسند کرتا ہوں (شکر ہے سچ بھی یہی ہے)۔ میں ان کے ساتھ مذاق کرتا، کہانیاں سناتا، ان کی مانتا، اپنی منواتا اور اپنے وطن انگلستان کے زندہ مرقعے کھینچتا۔ میں نے تدریس کو ایسی شے بنا دیا جس کے وہ منتظر رہتے۔ یہ آدھا گھنٹہ ان کے لیے لطیف ترین دورانیہ ہوتا۔

اس سب کے بعد میں مذہبی بحث کی طرف آیا۔ یہ مشکل مرحلہ تھا۔ میں نے مختلف مذہبی نظریات چھیڑے اور کلاس کو ان پر ہنسنے پر آمادہ کیا۔ ”صرف ہمارا مذہب ہی سچا ہے!“، ”ہماری جماعت کے سوا سب جہنم میں جائیں گے!“ وغیرہ وغیرہ۔

جب یہ بات بالواسطہ طور پر کی جاتی ، محض ایک اشارے یا خفیف سی جھلک کی صورت میں، تو مطلب ہوتا : جو بھی مذہبی نظریات انسانوں میں تقسیم پیدا کرتے ہیں، وہ سب عیسائی مذہبی نظریے کی طرح ہیں، جن پر ہم ہنسا کرتے ہیں۔

ہندو، مسلمان اور سکھ سب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں، میں روایتی مذہبی الہامات کا قائل نہیں، ظاہر ہے ان کے اپنے مذہبی عقائد بھی اس میں شامل ہیں۔ پھر میں نے عقیدے کے نام پر کھڑے ہونے والے مسائل پر تفصیل سے بات کرنا شروع کی۔ آخر میں یہ تجویز پیش کی : فطرت اور انسان سے بے لوث محبت بہترین طرزِ عمل ہے۔

نتیجہ یہ نکلا، یہاں میری شہرت اس واحد پروفیسر کے طور پر ہو گئی جس کے مذہبی خطبات سنے جانے کے قابل ہیں۔ میں اسی طرح کام کرتا رہا۔ نہ کسی ہندو کو ناراض کیا، نہ سکھ کو اور نہ ہی مسلمان کو لیکن میں عیسائیوں کو بھول گیا! میں لاہور کے مشنریوں کو بھول گیا! عیسائیت کے بارے میں میرے متنازعہ بیانات ان تک پہنچ گئے ہیں۔ اب مجھے فی الواقع خوفناک شخص سمجھا جاتا ہے۔

پس ثابت ہوا، میں نہ تو پروفیسر ہوں اور نہ ریورنڈ(مذہبی مدرس) ۔ میں زندگی سے محبت کرنے والا انسان ہوں، اور زندگی کی ان آتش فشاں قوتوں پر یقین رکھتا ہوں جو ہر معلوم چیز کے نیچے سے ابھرتی ہیں، اور اپنی راہ میں آنے والی ہر ممنوعہ چیز کو پاش پاش کر دیتی ہیں۔ اس شکست و ریخت سے عملی مسائل کا پہاڑ جنم لیتا ہے۔

آپ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو سمجھ سکتے ہیں، میں کیا کہنا چاہتا ہوں

آپ کے لیے محبت کے ساتھ،

ڈِکن

(انتخاب و ترجمہ : ارسلان راٹھور)

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button