کرنال بوٹ شاپ کا پھاٹک اور آنجہانی چندرا سیال کی یادیں

  مورخین تصدیق کریں، لاہور میں جوتوں کی معروف دکان کرنال بوٹ شاپ اسی مقام پر تھی؟ انارکلی میں مٹر گشت کے دوران یہ قدِ آدم دروازہ کئی بار میری توجہ کا مرکز بنا ہے۔مجھے لگتا تھا، یہ کسی حویلی کا پھاٹک رہا ہو گا۔ دروازے کے اوپر سکھوں اور ہندوؤں کے گھروں کی مانند …

 

مورخین تصدیق کریں، لاہور میں جوتوں کی معروف دکان کرنال بوٹ شاپ اسی مقام پر تھی؟ انارکلی میں مٹر گشت کے دوران یہ قدِ آدم دروازہ کئی بار میری توجہ کا مرکز بنا ہے۔مجھے لگتا تھا، یہ کسی حویلی کا پھاٹک رہا ہو گا۔ دروازے کے اوپر سکھوں اور ہندوؤں کے گھروں کی مانند نعل جَڑا ہوا ہے۔ آج قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ قریب کھڑے، اسّی سالہ بزرگ نے میرے بولنے سے پہلے خود بتایا، یہ کرنال بوٹ شاپ ہے۔

کہا جاتا ہے، آزادی سے پہلے اس دکان کے سامنے لمبا چوڑا آرائشی جوتا موجود تھا، جس کے اوپر لکھا ہوتا تھا : جس کو یہ جوتا پورا ہو، پہنے اور گھر کی راہ لے۔ شاید تقسیم کے موقع پر کوئی ظریف گھر لے گیا ہو!

ایسی روایت بھلہ شوز کے بارے میں بھی بیان کی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔

منٹو اور عصمت کا کرنال شاپ سے جوتے خریدنے کا قصہ زبان زد خاص و عام ہے، دہرانے کی حاجت نہیں۔ ایک قصہ چندرا سیال نے لکھا ہے۔ چندرا سیال کو اردو والے کم جانتے ہیں۔ یہ آزادی سے قبل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں چوتھے سال کی طالبہ تھیں۔

سینتالیس میں دہلی پدھار گئیں۔ زندگی کی آخری دہائیاں لندن میں گزاریں، دلوں کے روگ دور کرتی تھیں اور لاہور کی یاد میں جیتی تھیں۔ لاہور سے متعلق ان کی مجلسی گفت گوئیں لندن میں مقبول رہیں۔

تقسیم سے قبل کنگ ایڈورڈ کے ہاسٹل میں مقیم رہیں، انارکلی ان کا گھر تھا۔ چھٹی کے روز سائیکل پر یہاں سے وہاں گھومتی پھرتیں۔ انھوں نے لاہور کی یادوں کو نہایت عمدگی سے سمیٹا ہے۔ ان کی دو سہیلیاں کرشنا نگر میں مقیم تھیں۔ کرشنا نگر پر ان کی یادیں شاید کسی بھی لکھنے والے سے مختلف اور مسکت ہیں۔

بہر صورت واپس آتے ہیں، کرنال شوز کی طرف۔ آنجہانی چندرا صاحبہ کا کہنا ہے۔ میں اپنی سہیلیوں کے ہمراہ جوتا خریدنے کرنال شاہ پر جاتی تو دکان میں جوتا چڑھانے والے باہر آتے اور سائیکل سٹینڈ پر ہمارے پاؤں میں جوتا چڑھاتے۔ یہی حال مسلمان پردہ نشین بیبیوں کا تھا۔ تانگے یا بگھی پر بیٹھے بیٹھے پاؤں باہر کیا جاتا، اور جوتا پہن کر چادر کے اندر کھینچ لیا جاتا۔

سیال صاحبہ نے لکھا ہے، کرنال شاپ کے جوتے مہنگے ہوتے تھے، لیکن طالبات کو دو قسطوں میں قیمت ادا کرنے کی چھوٹ تھی۔

آخری دنوں میں، چندرا سیال سے بذریعہ ای میل رابطہ ہو پایا تھا۔ 12 مارچ 2023ء کے آخر میں ان کا نِدھن ہو گیا۔ ان کی عمر 96 برس تھی۔

یہ بھی علم میں آیا ، اب سے تین سال پہلے تک، لکڑی کے اس پھاٹک نما دروازے کے قبضے میں پرانا قفل سلامت تھا۔ پھر کسی بھنگی بہشتی نے کام دکھایا اور قفل غائب ہو گیا۔

اب قبضہ پرانا ہے، قفل نئے۔ چندرا صاحبہ نے لکھا ہے : اس دکان کے دائیں جانب، پھلوں والوں کی دکانیں تھیں۔ بائیں جانب تھوڑا آگے جا کر، بھائیوں کی دکان تھی۔ بھائیوں کی دکان مسلمان عطر فروشوں کی مشہور دکان تھی۔ اس کا ذکر پران نول نے بھی کیا ہے۔ میں ایک عرصے

سے اس کی تلاش میں ہوں، کوئی سراغ نہں ملا۔ جس سے پوچھو، وہ لکھنؤ پرفیوم ایجنسی کا بتاتا ہے، لیکن صاف ہے کہ یہ ایجنسی آزادی کے بعد قائم ہوئی۔ کسی کو علم ہو تو بتائے یا کم سے کم خود ہی کچھ لکھے۔ لکھنؤ پرفیوم ایجنسی کا ذکر منیر احمد منیر نے اپنے ایک انٹرویو میں کر رکھا ہے۔

کرنال بوٹ شاپ کے دروازے سے یہ خوشخبری بھی ملی کہ جلد ہی اس مقام پر جوتوں کی نئی دکان کھلنے والی ہے۔ نئے جوتے، نئے پاؤں۔ بگھی اور سائیکلیں البتہ نہ ہوں گی۔ پردہ نشینوں کے بارے میں خبر نہیں۔ دو قسطوں کی چھوٹ بھی، غالب ہے نہ ملے۔ شعر اور چھند پڑھ کر جوتا بیچنے والے پر لوک سدھار گئے۔ یار لوگ باقی ہیں۔ اللہ اللہ

 

ارسلان راٹھور

8 جنوری 2026ء

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button