اردو غزل اور مغربی آئینے (تین مشرقی شاعر تین مغربی کہانیاں)

قتل ہو کر ہم بچے آزار سے عمر کے دن کٹ گئے تلوار سے مومن کے شعر کا ٹھنڈا اور اقبال مندی سے بھرا لہجہ حیران کن ہے۔ کلبی فلسفیوں کے الفاظ میں اسے Amor fati کہہ سکتے ہیں۔ غزل کے اشعار پر، ماضی قریب میں کیا جانے والا ایک اہم اعتراض، دو مصرعوں میں …

قتل ہو کر ہم بچے آزار سے
عمر کے دن کٹ گئے تلوار سے

مومن کے شعر کا ٹھنڈا اور اقبال مندی سے بھرا لہجہ حیران کن ہے۔ کلبی فلسفیوں کے الفاظ میں اسے Amor fati کہہ سکتے ہیں۔ غزل کے اشعار پر، ماضی قریب میں کیا جانے والا ایک اہم اعتراض، دو مصرعوں میں بات کو مکمل کرنے کی مسابقت تھا۔ تکلف بر طرف، خاص حالات میں یہ اعتراض خاصا معقول معلوم ہوتا ہے۔ چاہے غزل کے شعروں کو ایجاز کا بہترین نمونہ ہی کیوں نہ قرار دیا جائے۔ جو تفاعل اور جزیات، کالرج کی قبلا خان یا ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ میں بیان ہو سکتے ہیں، ان کی مطلب برآری دو مصرعوں پر مشتمل بیت میں کیوں کر ممکن ہے، قافیے، ردیف اور بحر کی بندش مستزاد۔ ظاہر ہے، اس اعتراض کا جواب دینا (چاہے کتنی ہوشیاری سے کام لیا جائے) اصناف کے تقابلی مطالعے (Comparative Study) کے ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے، اصناف (علی الخصوص دو مختلف شعریات کی اصناف) کا تقابل کیسے ہی اخلاص اور دانش مندی پر مبنی ہو، دو مختلف اصناف کی بنیادی ہیئت کے فرق اور درجہ بندی (Hierarchy) کو کبھی فیصل نہیں کر سکتا اور کرنا بھی نہیں چاہیے۔ مثلاً مشرق اور مغرب کی سمتوں کے تفاعل، سمتوں کی حد تک ٹھیک ہیں (ہر چند کہ دونوں کا تعلق سورج کے اگنے اور ڈھلنے سے ہے)، لیکن حامد کی پگڑی محمود کے سر کے مصداق، مشرق سے مغرب جیسا بننے کا تقاضا لا حاصل اور بے منفعت ہے۔ سادہ جواب یہی ہے، مشرق کو سورج کے ڈوبنے کے لیے وضع نہیں کیا گیا، چاہے، سورج کا ڈھلنا بہت دل کش اور اہم کیوں نہ ہو۔

غزل : نظم یا ڈرامے یا ناول یا کسی دیگر صنف کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ بعینہٖ، دوسری کوئی صنف غزل کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ دونوں کے اپنے دائرے اور گنجائشیں ہیں۔ البتہ جو بات بہت غور کرنے کی ہے، وہ یہ ہے، کیا غزل کا ایجاز و اختصار، واقعی اتنا مختصر ہے، جتنا ہم خیال کرتے ہیں؟ جناب امیر المؤمنین سے کسی شخص نے آپ کی حیثیت کے متعلق معاندانہ طور پر سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : "میں اس سے کہیں بہتر ہوں جتنا تم میرے بارے میں گمان کرتے ہو، اور اس سے کہیں عاجز ہوں جتنا لوگ میرے بارے میں سوچتے ہیں۔”
معاملہ یہ ہے، غزل: ڈرامہ اور تھیٹر کا قائم بالذات نعم البدل نہیں ہو سکتی، جیسا ہمارے کچھ مخلص بزرگوں (مثلاً مسعود حسن رضوی) نے ثابت کرنے کی بھی کوشش کی۔ یہ ضرور ہے، غزل کے اختصار میں ڈرامے یا ناول کے حاصل کلام (جسے سابقین اخلاقی سبق جیسے نیک الفاظ سے تعبیر کرتے تھے) اور روزمرہ معاملات کی شاہ کار جھلکیاں ضرور دکھائی دیتی ہیں۔ یہ اہم بات ہے۔ ٹالسٹائی، جو چیخوف کی کہانیوں اور شخصیت کا مداح تھا، اس کے ڈراموں کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اپنی آخری ملاقات میں اس نے اس بات کا ذکر چیخوف سے کیا اور کہا : تمہارے کردار اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے سوا کچھ کرتے معلوم نہیں ہوتے۔ ٹالسٹائی کی رائے کی درستی و نادرستی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، یہ سمجھنا مقصود ہے کہ شعر جیسی کم گھیر کسوت میں کرداروں کی چمک دھمک کی تفصیل نہ سہی، ”اٹھنے بیٹھنے“ کی جھلکیاں ضرور نظر آتی ہیں۔ یہ کارنامہ، بڑے اور اہم شاعروں پر ہی موقوف نہیں، بل کہ طبقۂ دوم کے شعرا (مثلاً، وزیر، بحر، رند، صبا، مجروح، ممنون) نے بھی اس ذیل میں خوب خوب مہارت دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر، وزیر (م: 1854ء) اور صبا (م: 1855ء) کے دو شعر دیکھیے :

تھام لوں دل کو ذرا ہاتھوں سے
ابھی پہلو سے نہ اٹھ جائیے گا
(وزیر)

وہ سامنے سے جو گھوڑا کُداتے آتے ہیں
ہمارا مزرعِ ہستی نہ پائمال کریں
(صبا)

خواجہ محمد وزیر لکھنوی، ناسخ کے محبوب شاگردوں میں شامل تھے۔ ناسخ ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ وزیر کا شعر نازک خیالی اور بہانہ جوئی کا عمدہ نمونہ ہے۔ مجھے اس شعر کو پڑھ کر گاہے کنگ لیئر (King Lear) کا انجام یاد آتا ہے، گاہے دی چیری آچرڈ (The Cherry Orchard) کا اختتام۔ کنگ لیئر کی کہانی ہر خاص و عام کے علم میں ہے۔ چیخوف نے اپنے آخری المیے ”شاہ دانے کا باغ“ (The Cherry Orchard) میں علامتی طور پر ایک خاندان کی محبوب جاگیر اور طرزِ زندگی کی الم ناک ”موت“ دکھائی ہے۔ جاگیر سے رخصتی کے موقع پر خاندان کا بوڑھا وفادار فِرس (Firs) سہواً ویران گھر میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔ سب کے جانے کے بعد، وہ زمین پر چِت لیٹتا ہے اور التجا کرتا ہے، اسے اکیلا نہ چھوڑا جائے (اس سے ملتی جلتی کہانی علی اکبر ناطق کے افسانے، ”قائم دین“ میں بھی ملتی ہے)۔ ظاہر ہے، چیخوف کے ڈرامے کے سیاق و سباق میں یہ سین بہت اثر انگیز ہے۔ غزل کے شعر اس نوع کے سیاق و سباق سے عاری ہوتے ہیں۔ اگرچہ کرداروں کی نشست و برخاست کی پوری رسمیات ایک طرح کا سیاق و سباق مہیا کرتی ہے۔ یہ پس منظر، شعر خوانی کے دوران شعوری طور پر سامنے نہ ہوتے ہوئے بھی، دخل در معقولات رہتا ہے۔ اس ساری تفصیل کے بعد وزیر کا شعر کیسا بدیع معلوم ہوتا ہے، یہ کہنے کی ضرورت نہیں۔
(تھام لوں دل کو ذرا ہاتھوں سے
ابھی پہلو سے نہ اٹھ جائیے گا)

اسی طرح، صبا لکھنوی (جو آتش کے ممتاز شاگردوں میں شامل تھے) کا شعر، الگ اور مکمل ڈرامے کا عکاس ہے۔ گھوڑا کُدانے کا محاورہ، شوخی اور بغیر وجہ کے گھوڑے کو اُکسانے کے معنی کے علاوہ، میلے ٹھیلوں میں لکڑی کی گھوڑا نما کاٹھیوں میں مردوں عورتوں کے شوخ اور قدرے بے ترتیب رقص کرنے کے ثقافتی مفہوم کو محیط ہے۔

ملاحظہ ہو، یہ فعل ثقافتی عمل اور شوخی سے لے کر، متکلم (یا عاشق) کی سنجیدہ طبعی اور رومانوی انگیخت کے پیشگی خطرے تک کتنے متنوع اور گوناگوں رنگوں کا نمائندہ ہے۔ ٹالسٹائی کے اینا کارنینا کا وہ منظر آنکھوں میں پھر پھر جاتا ہے، جب اینا اپنے محبوب کاؤنٹ ویرونسکی کو گھڑ سواری میں حصہ لیتے ہوئے دیکھتی ہے۔ مختلف رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ویرونسکی ایک سنگین غلطی کا ارتکاب کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی گھوڑی کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس خوف ناک حادثے کو دیکھتے ہی، صدمے سے نڈھال اینا، بے اختیار چیخ اٹھتی ہے۔ یوں اس کے شوہر پر اینا کے خفیہ عشق کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔ ٹالسٹائی نے اپنے ذاتی و سوانحی تجربات کی مدد سے گھوڑوں کی تفصیلات (صفات و عادات) اور گھڑ سواری کی جزیات میں قلم توڑ دیا ہے۔ غور کریں تو صبا کا شعر، اینا کے دل کو روندتے ہوئے گھوڑے کی روداد کے علاوہ اور کیا ہے!

اب مومن کے جس شعر سے اس تحریر کا آغاز ہوا، دوبارا پڑھیے :

قتل ہو کر ہم بچے آزار سے
عمر کے دن کٹ گئے تلوار سے

آزار سے بچنے کے لیے مرنا اور دنوں کا تلوار سے کٹنا، کیسا مضبوط اور ٹُھکا ہوا ضلع ہے۔ ایک لفظ بھرتی کا نہیں۔ دوسرا مصرع ایسا متحرک ہے کہ تلوار سے کٹتے گرتے ہوئے دن نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ شعر، زندگی کی آفاقی چیرہ دستی کے مقابلے میں راضی بہ رضا رہنے کی روش کی نمائندگی بھلے ہی کرتا ہے، مجھے اس میں جیک لنڈن کا ایک پورا افسانہ نظر آتا ہے۔ حسرت ہے کہ جیک شعر اسے سنایا جا سکتا۔ جیک نے ایک افسانے میں وحشیوں کے ہاتھ لگنے والے چند یرغمالیوں کی داستان سنائی ہے، جن کو محض مارنا مقصود نہیں بل کہ تڑپا تڑپا کے اندوہ ناک طور پر موت کے حوالے کرنا مدعا ہے۔ ہر قیدی کی کہانی ایک نئی قیامت ہے۔ قیدیوں میں سے ایک اپنی ذہانت سے ترکیب لڑاتا ہے اور ان درندہ صفت قاتلوں سے بچ جاتا ہے۔ وہ قاتلوں کے سردار کو قائل کرتا ہے کہ اس کے پاس ایسی جَڑی بوٹی کا راز ہے، جس کے عرق کو گردن پر مَلنے سے قوی سے قوی تلوار کی ضرب بیکار ہو جاتی ہے اور گردن کا بال تک بیکا نہیں ہوتا۔ پہلے پہل سردار اسے جھوٹ جانتا ہے لیکن قیدی اپنی چرب زبانی سے ایسا افسانہ بُنتا ہے کہ سردار کے دل میں تجسس موجیں مارنے لگتا ہے۔ وہ اپنے ساتھی قاتلوں کے ہمراہ اسے جَڑی بوٹی ڈھونڈنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ نوجوان کچھ دن لگا کر دور جنگل کے گہرے حصے سے ایک پودے کے پتے لاتا ہے اور ایک رسوب تیار کرتا ہے۔ رسوب کو گردن پر لیپ کر سردار کو زور بازو آزمانے کی چنوتی دیتا ہے۔ اس موقع کے مکالمے افسانے کی جان ہیں۔ وہ سردار کو کہتا ہے، آج تمہاری مردانگی کا امتحان ہے، ضرب ایسی ہونی چاہیے کہ دل کا سارا خون ہاتھوں میں آ جائے، تاکہ تم امرت کا جادو دیکھ سکو۔ سارے جنگلی دائرے میں کھڑے ہو کر اس عجیب تماشے کو دیکھنے لگتے ہیں۔ سردار اپنے اندر کے درندے کو ہول ناکی سے باہر لاتا ہے اور ایسی ضرب لگاتا ہے کہ الحذر۔ ایک لمحے کے دسویں حصے میں نوجوان کے سر اور تن میں لمبی جدائی پڑ جاتی ہے اور یوں وہ جنگلیوں کو چکما دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ نیک لنڈن کی کہانی چاہے کسی روایت پر مبنی ہو یا تلمیح پر، دراصل زندگی کی سفاکی کو تسلیم کرنے اور سفاکیت کو چکما دینے کا نام ہے۔ شیکسپیئر کے الفاظ یاد آتے ہیں، mingled yarn, good and ill together.

یہ ساری بحث غزل کے شعروں کی ڈرامائیت اور ایمائیت کو قدرے سامنے لاتی ہے۔ ایک سوال البتہ ضرور پیدا ہوتا ہے، کیا یہ سبھی مماثلتیں قائل کے مطالعے کا نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں یا حقیقی تشبیہات کے طور پر۔ نفسیات چاہے اس کا جواب، نیوراتی باز آفرینی (Neurological Reactivation) کے طور پر دے، یا Semantic Association کے لفظوں میں، عام بھاشا میں قصہ یوں ہے، مماثلتوں کی مثالوں میں فرق ہو سکتا ہے، لیکن مماثلتوں کی موجودگی ہی انسانی دماغ اور یاداشت کا وہ آئینہ ہے، جس میں ادب سمیت انسانی زندگی کے سارے سماجی اعمال عکس ریز ہوتے ہیں اور اپنے ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ بات ہمارے کلاسیکی شعراء بہ خوبی جانتے تھے!

ڈاکٹر ارسلان راٹھور

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button