تقسیم سے پہلے کے لاہور میں لطائف کی ادبی نشستیں
پرانی کتابوں کے بازار میں آپ نے لطائف و ظرائف پر مشتمل چھوٹے بڑے رسالے بہ کثرت دیکھے ہوں گے، لیکن کون سوچ سکتا ہے، محض آٹھ دہائیاں پہلے، 1941ء میں، اس شہرِ نگار میں کہ نام نامی جس کا لاہور ہے، لطیفوں کی باقاعدہ مجلسیں منعقد ہوتی تھیں۔
رکیے، ایسا نہ ہو، آپ ان محفلوں کو مسخروں اور بھانڈوں کے مجمعے تصور کرنے لگیں۔ نہیں بل کہ ان مجلسوں کے حاضرین میں شہر بھر کے ادباء و زعماء شامل ہوتے تھے اور دادِ ظرافت پاتے تھے۔ مجلس کا صدر اور مہمان خصوصی طے پاتا۔ جگہ اور وقت بندھا ہوتا۔ عربی و فارسی کے ماہرین بلائے جاتے، پنڈت بٹھائے جاتے اور کھانے کھلائے جاتے۔ بھلا ہو، ن والقلم کا، جس کی روایت نے کتابوں کی صورت میں ہمیں اگلوں کی صحبتوں کا رنگ دکھا دیا اور بیٹھے بٹھائے گرما دیا۔
مجلسیں بھی ایسی جن میں پاک طینتوں کے آگے بستنی کے پیالے دھرے ہوتے، اعلیٰ و پُر رائحہ بستنی، جمی جمائی۔ بعد کے بانکے اسے آئس کریم کہنے لگے۔ پورے لاہور میں آئس کریم بنانے کی دو فیکٹریاں تھیں جن میں سے ایک گورنمنٹ کالج لاہور کے تَر دماغوں کے لیے مختص تھی اور سینیٹ ہال کی بغل میں برف جماتی تھی۔ یہ کارگاہ 1936ء کی وبا میں، کئی لڑکوں کے ضعف بصری میں مبتلا ہونے کے بعد، گورنمنٹ کالج کے مخلص پرنسپل کی بی بی (مسز ڈینکلف) نے بنوائی تھی کہ لڑکے خالص دودھ ملائی کی آئس کریم کھائیں اور چاق و چوبند ہو جائیں۔
اللہ اس بی بی کی قبر ٹھنڈی رکھے۔
اس فیکٹری کا ذکر ڈاکٹر دھرما ویر نے اپنی کتاب، Public Health in India میں کیا ہے۔
مجھے لطائف کی ان مجلسوں کا علم ایک کتاب سے ہوا۔ سچ ہے، الکتاب العصاء۔ نام ایسا ہے کہ عام لطیفوں کا گمان ہوتا ہے: بزم لطائف۔ جامع: عبد اللہ بٹ۔ پستک کا عنوان سادہ، مرتب کا نام، غیر ادبی۔ حجم دستی، بالشت بھر، ضخامت سو صفحے۔ نگہِ انتخاب میں آنے والی شے نہ تھی۔ بھلا ہو ایک بزرگ کتاب فروش کا، مجھے بے طرح ہنستے دیکھ کر ہنسوڑ گمان کیا اور کتاب آگے بڑھائی۔ میں نے بھی ان کا مان رکھنے کو دو چار صفحے آنکے۔ اچانک چراغ حسن حسرت کا نام سامنے آیا۔ حسرت میرے بچپن کا عشق ہیں۔ چراغ حسرت کی نثر پڑھی، حسرت موہانی کے شعر یاد کیے۔ گویا تمام بچپن بین الحسرتین ڈھل گیا۔ اللہ اللہ! چراغ حسن حسرت کا جو خاکہ منٹو نے لکھا ہے، اسے پڑھنے کے بعد، حسرت سے محبت دونی ہو گئی۔ منٹو کے کیا کہنے، جس کی بھد بھی اڑائی، وہ شہرت کی ہوا میں تیرنے لگا۔ افسوس کہ حسرت کی کی اونچی عمارت، آنکھ جھپکتے کھنڈر ہو گئی۔ ان الانسان لفی خسر۔ البتہ حسرت نے جو لکھا، شستہ اردو کا شاہکار ہے۔ پڑھنا فرض ہے اور سیکھنا واجب۔
بزم لطائف، کا دیباچہ پڑھا تو کھلا، 1941ء میں لاہور کے ادیبوں نے مل کر طے کیا، منافرت کے تیغِ تیز آب سے بچاؤ کی روش لطیفوں کی مجلسیں جمانا ہے۔ اس مقصد کے لیے رنگ رنگ کے لوگوں کو جمع کیا گیا۔ وہ حضرات بھی کھنچے چلے آئے جن میں بُعد المشرقین تھا۔ ان صحبتوں کا یہ لطف تھا کہ لوگ ڈٹ کر اختلاف کرتے اور دل کا غبار اُڑا دیتے۔ مجلس ختم، نکتہ ہضم۔ لطائف کی مجلس میں ہندو مسلمان سکھ اکھٹے بیٹھتے۔ سرداروں کی ہمت کو داد دیجیے کہ اکثر لطیفے ان کی ذاتِ شریف سے شروع ہو کر انھی پر ختم ہوتے، لیکن یہ ہیں کہ ہنسی کا پیکر بنے بیٹھے ہیں، دوستوں کا مان بڑھاتے ہیں۔
انگریز البتہ اس تثلیث میں شامل نہ ہوتے۔ صدارت اکثر و بیشتر، عبد المجید سالک کی ہوتی۔ یہ محفلیں حاضر دماغوں اور بیدار دلوں کی آماج گاہیں تھیں۔ اچھا لطیفہ بار پاتا اور بے رس کا ہر کوئی خاکہ اُڑاتا۔ ایک مجلس میں چراغ حسن حسرت نے بھی شرکت کی اور خوب خوب لطیفے سنائے۔ لطیفہ گوئی کی ان محفلوں کے اکثر شرکاء، عرب ہوٹل میں صبح و شام کے بیٹھنے والے تھے۔ وہی عرب ہوٹل جہاں ہندو چائے پیتے اور مسلمان کباب اڑاتے بل کہ دونوں پر ہاتھ صاف کرتے۔ یہ سب میر کے شعر کا مرقع معلوم ہوتا :
بُھنتے ہیں دل اک جانب سِکتے ہیں جگر یک سو
ہے مجلس مشتاقاں دکان کبابی کی
سنا ہے، نہرو کو بھی عرب ہوٹل کے کباب پسند تھے۔ لاہور آتے تو ان کی فرمائش ضرور کرتے۔ ٹنڈے کے نہ سہی، عربی سہی۔ اکثر ریٹیگن روڈ کی رہائش پر ٹھہرتے یا نیڈوز ہوٹل میں، دونوں میں کبابوں کا خوان بچھتا۔
افسوس عرب ہوٹل کو مولوی عبد الحق نہ ملے، ورنہ آج مرحوم عرب ہوٹل نام کی کتاب شہرت یافتہ ہوتی۔
لطیفوں کی ان مجلسوں کے خاص شرکاء کے نام بھی پڑھ لیجیے:
عبد المجید سالک، چراغ حسن حسرت، جناب نصر اللہ خان عزیز، مولانا محمد حنیف ندوی حسین میر کاشمیری، پنڈت ہری چند اختر، پروفیسر قاضی ظہیر الدین، میاں عبد المجید بھٹی، وقار انبالوی، کامریڈ باری علیگ، جمنا داس اختر، محمد فاضل، عبد السلام خورشید، محمود خان انور، حیات احمد خان، عبداللہ بٹ
پہلی مجلس میں عبد المجید سالک نے، جو مدیر انقلاب اور پیرِ شیخ و شاب تھے، لطائف کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی ہے اور کیا خوب ڈالی ہے۔ لطائف کی روایت عربوں سے آئی۔ عربی میں لطائف کی درجنوں کتابیں موجود ہیں۔ لطائف الملوک، لطائف المجانین، لطائف الشعراء، لطائف المدرسین، لطائف الادباء، لطائف اللطائف۔ فارسی اردو میں یہ روایت دراصل عربی گلستانوں کی خوشہ چینی ہے۔ جاحظ نے ہر پیشے کے لطیفوں کو جمع کیا اور عربی ادب کو مالا مال کر دیا۔ جاحظ کے بعد، ابن الجوزی جیسے متبحر عالم نے بھی کتاب الحمقاء میں عجیب و غریب واقعات کی جمع آوری کی۔ ایک زمانے میں، ہم نے اس کتاب کو لگ کر پڑھا اور سینے سے لگایا تھا۔ اگرچہ اس سلسلے کی پہلوٹھی کتاب، کتاب الاذکیاء زیادہ مقبول ہے۔ لیکن سچ پوچھیے تو، احمقوں کی جنت (کتاب الحمقاء کا اردو ترجمہ اسی عجیب و غریب نام سے ہوا) زیادہ نافع ہے۔ انسان چیزوں کو اضدادی جوڑوں کے ذریعے دیکھتا ہے۔ جھوٹ کے نقصان دکھانے سے سچ کی اہمیت اور افادیت آپ ہی روشن ہو جاتی ہے۔
ان لطیفوں کی ادبی اہمیت یہ ہے، کہ اس میں قریبی عہد کے ادیبوں کی ذاتی زندگی اور ثقافتی گہما گہمی کے بارے میں ایسے ایسے بیانات مجتمع ہو گئے ہیں، جو کسی دوسرے ماخذ سے ملنا معلوم۔ تین مجلسوں کا بیان ہے۔ زبان اور خیال کہیں ٹھٹھول کو نہیں پہنچتا۔ ظرافت کی نزاکت پر ہر لحظہ نگاہ ہے۔ گویا ہر طرف واہ واہ ہے۔ مذہبی لطائف بھی ہیں مگر یوں کہ دیوانوں کو ہوشیار رہنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ اے لوگو، فاعتبرو، جس قوم نے لطیفوں کا قبلہ سیدھا کر کیا، ان کے خیالات میں پاکیزگی کا پانی آپ سے آپ موجیں مارے گا۔ میری نہیں تو فرائڈ کی بات پر کان دھرو اور کچھ کرو۔
بزم لطائف، قومی کتب خانہ لاہور نے چھاپی ہے۔ مطبع، بہت سال پہلے النادر کالمعدوم ہو گیا۔ اس بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ مطبع غیر سرکاری طور پر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی ملکیت میں تھا۔
کتاب کا سن اشاعت 1943ء ہے۔ اگرچہ تینوں مجلسیں1941ء کی ہیں۔ بھلا ہو مرتب کا، مجلس کا زمان و مکان ٹھیک ٹھیک ڈھنگ سے درج کر دیا ہے۔ بل کہ وقت اور گھنٹہ بھی۔
پہلی دونوں مجلسیں اسلامیہ کالج کے سٹاف روم میں منعقد ہوئیں۔ وقت مبارک شام ساڑھے چار اور پانچ بجے بالترتیب تھا۔ تیسری محفل کا تکیہ، انقلاب کا دفتر بنا۔ اس مجلس کے واسطے، چراغ حسن حسرت دلی سے تشریف لائے تھے۔ یاد رہے کہ انقلاب کا دفتر، نسبت روڈ پر واقع تھا۔ عرب ہوٹل اور اسلامیہ کالج بغل میں تھے۔ چار اگست 1947ء سے ستمبر 47ء تک نسبت روڈ کے سارے ریستوران اور ڈھابوں نے سر نیہواڑ لیا۔ ہر طرف، دشنہ و خنجر چلنے لگے۔ لیکن عرب ہوٹل ان دنوں بھی کھلا رہا، ہاں یہ ضرور تھا، دھویں کے بادلوں میں کبابوں کی مہک جاتی رہی۔ یہ ساری روداد، اور خدا دیکھتا رہا، کے روزناموں میں ملاحظہ فرمائیں۔
قصہ طویل ہو گیا، کتاب مختصر ہے، خود پڑھیے۔ میں کام و دہن کے ذائقے کے واسطے، اس خوان سے دو تین، لقمے آپ کے ہاتھ میں تھماتا ہوں۔ کلو والشربو!
وقار انبالوی:
1۔طوائف کے تذکرے میں ایک لطیفہ مجھ سے بھی سن لیجئے۔ مولانا وحید الدین سلیم پانی پتی نے ایک دفعہ مکان تبدیل کیا اور سوئے اتفاق سے ایسا مکان کرائے پر لیا جو ایک دو ہی دن پہلے کسی طوائف نے خالی کیا تھا۔ جب مولانا پہلے روز اس مکان میں آئے تو مولانا حالی ان کے مہمان تھے۔ دونوں بزرگ رات کو دیر تک باتیں کرتے رہے جب سونے کی تیاریاں کرنے لگے تو باہر سے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ مولانا سلیم نے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ ایک دیدارو جوان سیڑھیوں میں کھڑا تھا۔ وہ مولانا کو نہ جانتا تھا۔ ایک طوائف کے مکان پر سفید ریش بزرگ کو دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا۔ اور آہستہ آہستہ کچھ بڑبڑانے لگا۔ مولانا نے واپس جا کر مولانا حالی سے بیان کیا۔ وہ آئے تو نوجوان نے انہیں پہچان لیا کیونکہ وہ جلسوں میں کئی بار انہیں تقریر کرتے اور نظمیں پڑھتے دیکھ چکا تھا۔ توبہ توبہ کر کے کہنے لگا مولانا آپ اور یہاں خدا کی پناہ۔ مولانا نے کواڑ کھولتے ہوئے کہا ہاں بھئی آو، اندر آ جاؤ کچھ کہو تو کیا کام ہے۔ لیکن نوجوان کہنے لگا نہ صاحب مجھے معاف فرمائیے جہاں آپ جیسے بزرگوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہاں ہمیں کون پوچھے گا۔
مولانا عزیز:
جن دنوں میں اسی اسلامیہ کالج میں پڑھتا تھا مولوی اصغر علی روحی صاحب ہمارے استاد تھے۔ ایک دن وہ جماعت کو پڑھا رہے تھے کہ ایک بڑھیا بھیکھ مانگتی ہوئی آئی اور چپ چاپ آ کر دروازے میں کھڑی ہو گئی۔ مولانا نے اسے دیکھا تو کہنے لگے، اے عجوز یہاں تیرے قدوم میمنت لزوم کی غایت قصوےٰ کیا ہے۔
عبد المجید سالک:
فن لطیفہ گوئی میں حکیم فقیر محمد چشتی مرحوم کا رتبہ بہت بلند تھا۔ ایک دفعہ میں حکیم صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک طوائف بھی مطب میں بیٹھی ہوئی تھی۔ میں بیٹھ گیا تو حکیم صاحب ان طوائف سے کہنے لگے، ان کو جانتی ہو یہ مولانا عبد المجید سالک ہیں، انقلاب اخبار کے ایڈیٹر، ان کی دعائیں لے لو۔ یہ بڑے مستجاب الدعوات ہیں اور پھر مجھ سے فرمایا،
مولانا آپ ان کو جانتے ہیں، یہ لاہور کی مشہور طوائف نجّو ہیں اور ان کا پورا نام نجات المومنین ہے۔
چراغ حسن حسرت:
ڈپٹی نذیر احمد مرحوم بڑے بزلہ سنج اور حاضر جواب شخص تھے۔ ایک دفعہ علماء میں بحث چلی کہ اجمیر شریف، تونسہ شریف، بغداد شریف کہنا جائز ہے یا نہیں۔ بعض علماء اس کے موافق تھے بعض مخالف۔ ایک شخص نے مولانا سے بھی فتوی طلب کیا۔ انہوں نے جواب میں فرمایا، اگر مزاج شریف کہنے میں کوئی مضائقہ ہے تو بے شک اجمیر شریف کہنا بھی درست نہیں!
چراغ حسن حسرت:
علامہ اقبال مرحوم گول میز کانفرنس سے واپس آئے تو مولوی شفیع داؤدی ان کے ہمراہ سفر تھے۔ ایک دن وہ عدن کے قریب عرشہ جہاز پر بیٹھے گول میز کانفرنس کی روداد پڑ رہے تھے کہ یکا یک کتاب ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر سمندر میں جا گری۔ کچھ فاصلے پر عربوں کی ایک کشتی جا رہی تھی۔ مولانا داؤد نے انہیں پکار کر کہا،
یا شیخ تعال تعال ذالک الکتاب لا ریب فیہ
